فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے، بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک
یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس کی صدارت کے دوران کہی، جس کی مشترکہ صدارت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کی۔ اجلاس میں فتنہ الہندوستان کے خلاف مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس، آئی جی ایف سی نارتھ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، ڈی جی لیویز، محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس میں درپیش رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:قلات: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی مسافر بس پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق
وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان حکومت کی مکمل حمایت جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دشمن عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے، یہ جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ سب ورژن اور دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی سے سرگرم ہیں، اور سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہر قیمت پر امن قائم کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔