اسلام آباد‘ واشنگٹن (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر  محمد اسحاق ڈار نے امریکی ہم منصب  مارکو روبیو سے واشنگٹن ڈی سی میں اہم ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے  دوطرفہ تعلقات کے فروغ  اور مختلف شعبہ جات میں مضبوط اور منظم روابط استوار کرنے کے ضمن میں  مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ)  پہنچنے پر امریکی حکام کی جانب سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا استقبال کیا گیا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی نائب وزیر اعظم  کے ہمراہ تھے۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں فریقین کی جانب سے سینئر حکام شریک ہوئے۔ پاکستان اور امریکہ کے وزراء خارجہ کے درمیان  یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔ اس سے قبل دونوں رہنمائوں کے درمیان ٹیلی فونک روابط قائم  تھے۔ ملاقات میں پاکستان  -امریکہ  تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تجارتی و اقتصادی روابط  کے فروغ، سرمایہ کاری، زراعت ، ٹیکنالوجی، معدنیات سمیت اہم شعبہ جات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں انسداد دہشت گردی  اور علاقائی امن کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ   محمد اسحاق ڈار نے عالمی امن کے فروغ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ پاکستان- بھارت کشیدگی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کردار اور کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی و علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ مثبت  کردار ادا کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاک -امریکہ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت اور استحکام دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری ٹریڈ ڈائیلاگ میں مثبت پیش رفت کے حوالے سے پر امید ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ  محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان امریکی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش منزل ہے۔ علاقائی امن کے حوالے سے دونوں ممالک کے نقطہ نظر اور مفادات میں ہم آہنگی ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبہ جات میں مضبوط اور منظم روابط استوار کرنے کے ضمن میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی تھنک ٹینک ’’دی اٹلانٹک کونسل‘‘ سے خطاب بھی کریں گے جہاں وہ علاقائی و عالمی مسائل اور پاکستان ‘ امریکہ تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر  پیش کریں گے۔دریں اثناء نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے کہا ہے کہ دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان امن پسند ایٹمی ملک ہے۔ دنیا کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔ مارکو روبیو سے ملاقات میں باہمی شراکت داری پر زور دیا۔ امریکہ سے ہمارے تعلقات کثیر الجہتی ہیں۔ روبیو سے پاک امریکہ تعلقات بہتر بنانے پر بات کی۔ دہشت گردی اب بھی ایک چیلنج ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں دہشت گرد شریف اﷲ کی گرفتاری پر پاکستان کو سراہا۔ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی  ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد معاشی چیلنجز کا سامنا رہا۔ سکیورٹی‘ آئی ٹی اور علاقائی امن کیلئے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ ہم ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات امریکہ جاتی ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے مطالبہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ امریکی صدر‘ وزیر خارجہ کا سیز فائر کروانے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ غزہ میں فوری طور پر سیز فائر ہونا چاہئے۔ بیت المقدس آزاد فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہئے۔ غزہ کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر اہم تنازعہ ہے۔ ٹی آر ایف کا لشکر طیبہ کے ساتھ لنک کرنا درست نہیں۔ بھارت نے سات دہائیوں سے کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ اس نے متنازعہ علاقے کشمیر میں ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ بھارت نے روایتی الزام تراشی کے بعد جارحیت کی۔ بھارت دہشت گردی کا بہانہ بنا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی منڈیوں تک مؤثر رسائی چاہتا ہے۔ پاکستان سیاسی گروپنگ یا کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ پی ٹی آئی نے 2014ء میں 126 دن کا دھرنا دیا جس سے معاشی نقصان ہوا۔ اگر کوئی پاپولر لیڈر ہے تو اس کو یہ حق نہیں کہ سکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرے۔ بانی پی ٹی آئی سیاست سے پہلے چندے کیلئے میرے پاس آتے تھے۔ عمران حکومت نے 100 سے زائد مجرم رہا کئے۔ سرحدیں کھولیں اور 40, 30 ہزار طالبان اندر آ گئے اور پھر سے زندہ ہو گئے۔ عمران کا یہ فیصلہ بہت افسوسناک تھا۔ افغانستان کی سرحدیں نہیں کھولنی چاہئیں تھیں۔ سانحہ 9 مئی کے واقعہ پر قانون اپنا راستہ لے گا۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی دہائیوں سے امریکہ میں امریکی قانون کے تحت قید ہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ پاکستان نیوٹرل مقام پر بھارت کے ساتھ بات چیت کا منتظر ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ محمد اسحاق ڈار نے شعبہ جات میں علاقائی امن کے حوالے سے ملاقات میں کے درمیان کے خلاف کرنے کے کے فروغ امن کے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار