بغیر کوڈنگ کے ایپ بنانا ممکن، گوگل نے ‘اوپل’ نامی اے آئی ٹول لانچ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
گوگل نے اے آئی سے چلنے والا ‘اوپل’ نامی ٹول متعارف کرایا ہے جو صارفین کو بغیر کوڈنگ کے صرف عام زبان میں ہدایات دے کر ویب ایپلیکیشنز بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یہ جدید ٹول اس وقت امریکا میں ‘گوگل لیبز’ کے تحت تجرباتی مرحلے میں دستیاب ہے اور اس کا مقصد ایسے افراد کو ویب ایپ بنانے کے قابل بنانا ہے جو روایتی کوڈنگ نہیں جانتے مگر ایپ بنانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ کا کوئیک ری کیپ فیچر کیا ہے؟
اوپل صارفین کو 2 طریقوں سے ایپ بنانے کی سہولت دیتا ہے؛ یا تو وہ مکمل طور پر خالی صفحے سے آغاز کریں اور تحریری ہدایات فراہم کریں، یا پہلے سے موجود ایپس کی گیلری میں سے کسی ایپ کو منتخب کر کے اپنی ضروریات کے مطابق اسے ڈھال لیں۔
جب کوئی صارف ہدایت دیتا ہے تو گوگل کے اندرونی اے آئی ماڈلز اس ایپ کی ساخت تیار کرتے ہیں اور ایک بصری ورک فلو ظاہر کرتے ہیں جس میں ہر مرحلہ مثلاً ان پٹ، آؤٹ پٹ اور پراسیسنگ نمایاں ہوتا ہے۔ ہر مرحلے پر کلک کر کے صارف اس کو ایڈٹ بھی کر سکتا ہے جبکہ نئے مراحل ٹول بار کے ذریعے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ویڈیوز میں ڈھلتی تصویریں، گوگل نے پاکستان میں جدید اے آئی ٹولز ویو 3 اور فلو متعارف کرادیا
جب ایپ مکمل ہو جاتی ہے تو اسے آن لائن شائع کیا جا سکتا ہے اور ایک لنک کے ذریعے دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اوپل گوگل کی اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عام صارفین اور تخلیقی ذہن رکھنے والے افراد کو ایپ ڈویلپمنٹ میں خودمختار بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپل ایپ اے آئی ٹول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپل ایپ اے آئی ٹول اے آئی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔