منی لانڈرنگ کیس، چالان جمع نہ ہو سکا، پرویز الہٰی کی حاضری معافی منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے وکیل کا دوران سماعت کہنا تھا کہ 3 مرتبہ ایف آئی اے نے مہلت مانگی لیکن میرے موکل کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر سکے، ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت نہیں صرف انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے مہلت مانگی جاتی ہے، الزامات لگائے ہیں تو چالان جمع کروائیں۔ اسلام ٹائمز۔ منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے چالان جمع نہ کروایا جا سکا اور عدالت نے پرویز الہٰی کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔ ایف آئی اے سینٹرل لاہور کے جج نے منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے کی سماعت کی، دوران سماعت پرویز الہٰی کے وکیل عامر سعید راں نے پرویز الہٰی کی حاضری معافی سے متعلق درخواست دی اور بتایا طبیعت ناساز ہونے کے باعث پرویز الہٰی پیش نہیں ہو سکے۔ عدالت نے پرویز الہٰی کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی اور ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ مقدمہ کا چالان کہاں ہے۔؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ چالان جمع کروانے کیلئے مہلت دی جائے۔
پرویز الہٰی کے وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ 3 مرتبہ ایف آئی اے نے مہلت مانگی لیکن پرویز الہٰی کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر سکے، ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت نہیں صرف انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے مہلت مانگی جاتی ہے، الزامات لگائے ہیں تو چالان جمع کروائیں۔ وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ مونس الہٰی بے قصور ہیں، جان بوجھ کر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہٰی کے خلاف ایک الزام ثابت نہیں ہوا، مونس کے ریڈ وارنٹ نکال کر قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں، حکومت کے پاس منی لانڈرنگ کے کوئی شواہد نہیں ہیں، صرف سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کیلئے مقدمہ قائم کیا گیا، اگر کوئی ثبوت ہوتے تو حکومت عدالت میں پیش کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عدالت نے ایف آئی اے کو مقدمہ چالان جمع کروانے کیلئے 18 اگست تک آخری موقع دیدیا اور کہا کہ چالان نہ آیا تو قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرویز الہ ی کی حاضری معافی منی لانڈرنگ مہلت مانگی ایف آئی اے چالان جمع نے کہا کہ عدالت نے الہ ی کے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔