Express News:
2026-07-24@07:54:39 GMT

سدھار اب بھی ممکن ہے!

اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT

گزشتہ دنوں ریڈیو پاکستان کی ایک سابق خوبصورت آواز یاسمین طاہر کا انتقال ہوا۔ ریڈیو پاکستان سے ان کی طویل وابستگی کا پریس اور سوشل میڈیا میں خوب چرچا رہا۔ اس پر ریڈیو سے وابستہ پرانی یادیں ایک ایک کر کے ہمارے ذہن میں اترنے لگیں۔ رحیم یار خان کے ہمارے دور افتادہ گاؤں میں اس وقت تک پختہ سڑک اور بجلی نہیں پہنچی تھی۔ اپنے بچپن اور لڑکپن میں بیرونی دنیا سے رابطے اور تعلق کا ہمارا واحد سہارا ریڈیو تھا۔

بہت بعد میں ریڈیو پاکستان لاہور پر صبح کے پروگرام ’’سات رنگ‘‘ کو یاسمین طاہر کی میزبانی میں ہم نے بہت سنا۔ یاسمین طاہر کا خاصہ ان کی مخصوص اور مدھر ملائم آواز تھی، اس پر مستزاد منفرد اور شائستہ لہجہ، الفاظ کا انتہائی عمدہ انتخاب اور گفتگو میں روانی جیسے آب رواں جاری ہو۔ ایک ’’سات رنگ‘‘ کا ہی تذکرہ کیا، ریڈیو پاکستان پر مختلف النوع پروگرام ہم ایسے بے شمار لوگوں کے لیے سمعی رفاقت کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت اور اپنے ناپختہ لہجے کی درستی کا ایک ذریعہ تھے۔

60 کی دہائی کے آخر اور 70 کی دہائی کے شروع میں ریڈیو پاکستان لاہور سے شام کے وقت سوہنی دھرتی اور جمہور دی آواز پروگرام ہوا کرتے تھے۔ بالخصوص جمہور دی آواز پروگرام دیہی زندگی کی شاموں کا اٹوٹ انگ تھا۔ پنجابی زبان میں نظام دین، چوہدری صاحب، ملک صاحب اور چاچا خیرو جیسے مختلف کردار روزمرہ کی زندگی اور دیہاتی مسائل کا احاطہ نہایت بے ساختگی اور خوبصورتی سے کرتے۔

یہ کردار دیہاتی زندگی میں ہمیں اپنے گھر کے افراد کی طرح مانوس لگتے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے 70 کی دہائی کے شروع میں خواجہ فرید گورنمنٹ کالج رحیم یار خان ( جو اب شاید یونیورسٹی کا درجہ پا چکا ہے) میں کالج فنکشنز میں کئی شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ ان میں سے ایک شخصیت جمہورر دی آواز پروگرام کے چوہدری صاحب، جن کا اصل نام عبداللطیف مسافر تھا، کی گفتگو آج تک ذہن میں نقش ہے۔ آڈیٹوریم کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ مائیک پر چوہدری صاحب اور ان کی آواز کا جادو تھا اور پورے ہال میں سناٹا!

ریڈیو پاکستان کے بعد ریڈیو ملتان کا آغاز ہوا جس نے بہت حد تک ریڈیو پاکستان کی روایات کو آگے بڑھایا۔ سرائیکی زبان، کلچر، میوزک، آرٹ اور شاعری کو خوبصورت طریقے سے یوں پیش کیا کہ سرائیکی زبان اور اس پورے خطے کو گویا زبان مل گئی۔

70 کی دہائی کا یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو پاکستان کی آواز ہر گھر میں گونجتی تھی۔ تعلیم کے سلسلے میں ہم شہروں میں مقیم ہوئے تو یہی تعلق پاکستان ٹیلیویژن سے قائم ہو گیا۔ پہلا تعلق صرف سمعی تھا مگر اس نئی سمعی وبصری سنگت نے گویا ایک نیا جہان متعارف کرایا۔ ہمیں یاد ہے کہ 1974ء کے لگ بھگ ٹیلی ویژن پر محمد علی باکسر کی لائیو فائٹ دیکھنے شاہی روڈ رحیم یار خان پر ایک الیکٹرانکس شو روم مالک کی فیاضی کے طفیل ایک ہجوم بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کی چھوٹی سی اسکرین پر یہ فائٹ دیکھنے امڈ آیا۔ گرتے پڑتے ہم نے بھی یہ فائٹ دیکھی اور دیکھ کر تادیر اسے نئے سمعی وبصری تجربے پر سرشار رہے۔

ایک زمانہ تھا کہ ریڈیو اور پی ٹی وی کا نام سنتے ہی دلوں میں فخر کی لہر دوڑ جاتی تھی تاہم آج یہ دونوں ادارے اپنے عروج کے دنوں کی یاد اور حالیہ زوال کی کہانی ہیں۔ یہ دونوں ادارے بدلتے وقت، نئے تقاضوں اور نجی شعبے کی اٹھان کے سامنے مسلسل سیاسی مداخلت، ریاستی عدم توجہی اور بدانتظامی کے ہاتھوں زوال پذیر ہو گئے۔

ریڈیو پاکستان کا قیام 1947میں ہوا تو اس کے پاس صرف تین ریڈیو اسٹیشن تھے لیکن چند برسوں میں یہ پورے ملک میں اپنی آواز پہنچانے کا طاقتور ذریعہ بن گیا۔

اس کے فنکار، اناؤنسرز اور پروگرام ایسے تھے جن کی آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی سے لے کر خبروں تک، تعلیمی پروگراموں سے لے کر تفریحی نشریات تک، ہر شعبے ریڈیو پاکستان کے زیادہ تر پروگرام بہترین معیار کے حامل ہوا کرتے۔پھر پی ٹی وی کا دور آیا۔ 1964 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے اپنی نشریات شروع کیں تو یہ جنوبی ایشیا کا پہلا ٹی وی نیٹ ورک تھا۔

اس کے ڈرامے، تعلیمی پروگرام، بچوں کے شوز اور خبری نشریات نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ بہتریں انتظامی ٹیم، تخلیق کاروں اور فنکاروں کی ایک وسیع کہکشاں نے پی ٹی وی کو بلندیوں پر پہنچایا۔افسوس کہ ان دونوں اداروں پر بھی ہماری جانی پہچانی افتاد آن پڑی یعنی کامیاب اداروں کو کھوکھلا کرنے سے باز نہ رہے۔

مسلسل سیاسی مداخلت اور بدانتظامی سے یہ ادارے سیاسی کٹھ پتلی بننے پر مجبور کیے گئے اور یوں ان کا تخلیقی اور فنی معیار گرنا شروع ہو گیا۔ ہر نئی حکومت نے اپنے لوگ بٹھائے، اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائیں اور ان اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کا آلہ کار بنانے کی کوشش کی۔ میرٹ کی جگہ سفارش نے لے لی، صلاحیت کی جگہ سیاسی وفاداری کو ترجیح دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ادارے اپنی روح کھو بیٹھے۔

پی ٹی وی میں کبھی ’’خدا کی بستی‘‘، ’’تنہائیاں‘‘، ’’انکل عرفی‘‘، ’’وارث‘‘، ’’دیواریں‘‘ جیسے ڈرامے بنتے تھے جو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی دیکھے جاتے تھے۔ اب مدت ہوئی پی ٹی وی نے اپنی پرانی پروڈکشن سے تقریباً ہاتھ اٹھا لیا ہے، جو باقی رہا بالعموم غیرمعیاری اور بھرتی کا کام رہ گیا۔ آج پی ٹی وی پر وہ معیار صرف حافظے میں رہ گیا جب کہ دنیا میں بی بی سی، الجزیرہ، ڈی ڈبلیو جیسے ادارے سرکار کی آشیرباد کے باوجود اپنی خودمختاری اور میرٹ کے ذریعے آج بھی بلندیوں پر ہیں۔

آج کے دور میں جب نجی ٹی وی چینلز کی بھرمار ہے اور ڈیجیٹل میڈیا نے ہر گھر میں جگہ بنا لی ہے، ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی اہمیت قدرے کم ضرور ہوئی ہے تاہم یہ ادارے قومی یکجہتی اور ثقافتی اقدار کی ترویج کے لیے جہاں کمرشلزم کی دلچسپی صفر ہے وہاں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ان اداروں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے۔ اہل پروفیشنلز میرٹ پر تعینات کیے جائیں۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے اور ان کے پروگراموں میں تخلیقی آزادی دی جائے۔ دونوں اداروں کی فنانشل ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کا مالیاتی بوجھ الگ کر دیا جائے تاکہ ان اداروں کو نئے آغاز کا موقع فراہم ہو سکے۔

آج یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے دور میں بھی حکومتی انتظام میں ایسے ریڈیو اور ٹیلی ویژن اداروں کی اہمیت برقرار ہے جو کمرشلزم کی دوڑ کے بجائے سماجی و ثقافتی اقدار کے علم بردار ہوں… تاہم اس معصومانہ خواہش کے لیے صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی مجبوری آڑے آ رہی ہے… ہمارا طرز عمل گواہ ہے کہ صحیح سمت کے ساتھ ہمارے قدموں کا میلان کبھی بھی حوصلہ افزاء نہیں رہا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریڈیو پاکستان اداروں کو کی دہائی

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو