لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیاہے کہ بینیظر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نشونما پروگرام 2022 میں شروع ہوا، اس کی لاگت 21.5 ارب ڈالر کر دی گئی ، اس کا حصول اور ترسیل ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیدی گئی، ، پورے پاکستان میں انہوں نے جو انڈسٹری شارٹ لسٹ کی وہ اسماعیل انڈسٹریز ہے جس کے مالک مفتاح اسماعیل ہیں، ، 2022 سے لے کر آج تک اس پروگرام کے تحت 97 ارب روپے تقسیم کیئے گئے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں اظہار خیال کے دوران انکشاف کیاہے کہ بینیظر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نشونما پروگرام 2022 میں شروع ہوا، اس وقت اس کی رقم 2 ارب روپے مختص کی گئی ، اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں دیہاتی علاقوں میں جو حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہو تی ہیں ، غذاتی قلت ایک ایسی بیماری ہے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوتے ہیں، ان کی صحت کو بہتر بنانے کیلئے ماں اور بچوں کو اچھی غذا مہیا کی جائے ،  یہ پروگرام تھا، اس کی لاگت دو ارب سے بڑھا کر  21.

5 ارب روپے کر دی گئی، اس وقت ہمارے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی بجٹ تقریر 2022-23 میں  کہا کہ بینظیر نشونما پروگرام تمام اضلاع تک بڑھا دیا جائے گا جس میں 21.5 ارب روپے لاگت آئے گی ۔ 

والد سے پیسے نہ منگوانے پر سسرالیوں نے بہو کومبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ اس کا حصول اور ترسیل ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیدی گئی ، اس کی خریداری کا جو طریقہ ہے وہ مکمل طور پر اندرونی ہے ،اس میں کوئی پیپرا رولز نہیں ہیں، کوئی آڈٹ نہیں ہے ، انہیں ترسیل سپرد کی گئی ، پورے پاکستان میں انہوں نے جو انڈسٹری شارٹ لسٹ کی وہ اسماعیل انڈسٹریز ہے جس کے مالک مفتاح اسماعیل ہیں،  اس کی تفصیل بھی جواب میں دی گئی ہے ، 2022 سے لے کر آج تک اس پروگرام کے تحت 97 ارب روپے تقسیم کیئے گئے ہیں اور اسی انڈسٹری نے کیئے ہیں اور مفتاح اسماعیل کی انڈسٹری کو ٹھیکہ دیا گیاہے ، کہ خریداری اور ترسیل وہیں سے ہوئی ہے ۔

 پاکستان میں پہلی بار پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی ’’ شارک6 ‘‘ متعارف 

سپیکر نے استفسار کیا کہ اگر یہ قانونی نہیں تھی تو اس پر کوئی کارروائی ہوئی ہے ؟ طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ، بینظیر انکم سپورٹ کا طریقہ کار جو اس وقت فوڈ پروگرام کے ساتھ جوڑا گیا ابھی تک اسی طرح چل رہاہے ۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے نشونما پروگرام پروگرام کے تحت مفتاح اسماعیل پاکستان میں ارب روپے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ