نشونما پروگرام میں 97 ارب روپے کی تقسیم، مفتاح اسماعیل کی کمپنی کو مبینہ طور پر ٹھیکہ دیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیاہے کہ بینیظر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نشونما پروگرام 2022 میں شروع ہوا، اس کی لاگت 21.5 ارب ڈالر کر دی گئی ، اس کا حصول اور ترسیل ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیدی گئی، ، پورے پاکستان میں انہوں نے جو انڈسٹری شارٹ لسٹ کی وہ اسماعیل انڈسٹریز ہے جس کے مالک مفتاح اسماعیل ہیں، ، 2022 سے لے کر آج تک اس پروگرام کے تحت 97 ارب روپے تقسیم کیئے گئے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں اظہار خیال کے دوران انکشاف کیاہے کہ بینیظر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نشونما پروگرام 2022 میں شروع ہوا، اس وقت اس کی رقم 2 ارب روپے مختص کی گئی ، اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں دیہاتی علاقوں میں جو حاملہ خواتین غذائی قلت کا شکار ہو تی ہیں ، غذاتی قلت ایک ایسی بیماری ہے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوتے ہیں، ان کی صحت کو بہتر بنانے کیلئے ماں اور بچوں کو اچھی غذا مہیا کی جائے ، یہ پروگرام تھا، اس کی لاگت دو ارب سے بڑھا کر 21.
والد سے پیسے نہ منگوانے پر سسرالیوں نے بہو کومبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ اس کا حصول اور ترسیل ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیدی گئی ، اس کی خریداری کا جو طریقہ ہے وہ مکمل طور پر اندرونی ہے ،اس میں کوئی پیپرا رولز نہیں ہیں، کوئی آڈٹ نہیں ہے ، انہیں ترسیل سپرد کی گئی ، پورے پاکستان میں انہوں نے جو انڈسٹری شارٹ لسٹ کی وہ اسماعیل انڈسٹریز ہے جس کے مالک مفتاح اسماعیل ہیں، اس کی تفصیل بھی جواب میں دی گئی ہے ، 2022 سے لے کر آج تک اس پروگرام کے تحت 97 ارب روپے تقسیم کیئے گئے ہیں اور اسی انڈسٹری نے کیئے ہیں اور مفتاح اسماعیل کی انڈسٹری کو ٹھیکہ دیا گیاہے ، کہ خریداری اور ترسیل وہیں سے ہوئی ہے ۔
پاکستان میں پہلی بار پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی ’’ شارک6 ‘‘ متعارف
سپیکر نے استفسار کیا کہ اگر یہ قانونی نہیں تھی تو اس پر کوئی کارروائی ہوئی ہے ؟ طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ، بینظیر انکم سپورٹ کا طریقہ کار جو اس وقت فوڈ پروگرام کے ساتھ جوڑا گیا ابھی تک اسی طرح چل رہاہے ۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے نشونما پروگرام پروگرام کے تحت مفتاح اسماعیل پاکستان میں ارب روپے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں