پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان، انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج زبردست تیزی کا رجحان ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوزکے مطابق کاروباری ہفتے کے آخری دن (جمعہ کو) بازارِ حصص میں 454 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ مارکیٹ کا آغاز ہوا، جس کے ساتھ ہی کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 34 ہزار 236 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
بعد ازاں مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا اور 669 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 34 ہزار 452 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔
واضح رہے کہ رواں کاروباری ہفتے کا آغاز بھی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں انڈیکس نے نئی تاریخی سطح کا ریکارد رقم کیا تھا۔
فنانس ایکٹ اور لیبر پالیسی کے خلاف چیمبرز سراپا احتجاج، 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی کے ساتھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔