پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندی پر، 134,000 پوائنٹس کی حد عبور
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے جمعہ کو کاروباری ہفتے کے اختتام پر ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا، جب مارکیٹ کا آغاز 348 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا اور ہنڈرڈ انڈیکس 134,000 پوائنٹس کی سطح سے بھی اوپر چلا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کا سبب ’رزلٹ سیزن ریلی‘ ہے، جس کے تحت سرمایہ کار بڑی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔
آج یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) کی جانب سے ششماہی مالی نتائج کا اعلان متوقع ہے، جس میں فی حصص آمدنی 13 روپے اور 5.
سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت مالی توقعات کے باعث اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیزی کی جانب گامزن ہے، جس سے ملکی معیشت میں بہتری کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔