خطے کی سب سے زیادہ مہنگی بجلی اور گیس بیچ کر ترقی نہیں ہو سکتی: مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2025ء)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیاہے کہ حکومت نے اس سال 26 ارب ڈالر قرض لیا، پاکستان کا قرض کم نہیں ہو رہا،وہیں کھڑاہے، قرض سے نکلنے کیلئے برآمدات بڑھانا ہوں گی، معروف صنعتکار عارف حبیب نے کہا کہ مائننگ اچھا موقع ہے،ہم اس پر تیزی سے کام نہیں کر سکے، پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کا بھی مسئلہ ہے۔
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کم،ٹیکس،بجلی اور گیس کی قیمتیں زیادہ ہیں، حکومتی اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسز زیادہ ہیں، این ایف سی ایوارڈ کم کرنا چاہیے،جس سے وفاق پر دبائو کم ہو گا، ٹیکسز کی شرح کم ہونی چاہیے، خطے کی سب سے زیادہ مہنگی بجلی اور گیس بیچ کر ترقی نہیں ہو سکتی، ہماری گورننس ناقص ہے،، ہر چیز پر قدغن نہیں لگانی چاہیے، حکومت نے اس سال 26 ارب ڈالر قرض لیا، پاکستان کا قرض کم نہیں ہو رہا،وہیں کھڑاہے، قرض سے نکلنے کیلئے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔(جاری ہے)
معروف بزنس مین عارف حبیب نے کہا کہ مجھے اپنی پالیسی میکنگ میں بھی کمزوریاں لگتی ہیں، سیمنٹ کی ایکسپورٹ بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، کپاس کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، مائننگ اچھا موقع ہے،ہم پر اس پر تیزی سے کام نہیں کر سکے، پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کا بھی مسئلہ ہے ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نہیں ہو
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔