ملک میں پولیو کے تین نئے کیسز سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ملک میں پولیو کے تین نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2 اور سندھ میں 1 نئے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق شمالی وزیرستان، لکی مروت اور عمرکوٹ سے پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد سال 2025 میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو وائرس کمزور قوتِ مدافعت والے بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔ پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچے نہ صرف اپنے لیے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ادارے نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، پولیو سے بچاؤ صرف بار بار ویکسین پلوانے سے ہی ممکن ہے۔
علاوہ ازیں پیدائش سے 15 ماہ تک بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کروائیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔