پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں، کانگریسی رہنما چدمبرم
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
بھارت کے سابق وزیرداخلہ اور کانگریس رہنما پی چدمبرم نے کہا ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، حملہ آور بھارتی شہری تھے۔
یہ بھی پڑھیں:برازیل میں برکس اجلاس: پہلگام حملے پر بھارت کو ایک اور سفارتی ناکامی
انہوں نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ کیا حملہ آوروں کی شناخت پاکستانی کے طور پر کی گئی ہے؟
چدمبرم کے مطابق حملہ آوروں نے دہشتگردی کی تربیت بھارت میں ہی حاصل کی۔
بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ حملہ آوروں کو پکڑا گیا، نہ ان کی شناخت ہوئی، صرف چند افراد کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کرنے کی خبریں آتی ہیں۔
چدمبرم نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی خاموشی اور آپریشن سندور پر حکومت کی عدم شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں:’یہ پہلگام واقعے کا جشن منا رہے ہیں‘، ششی تھرور کے گانا گانے پر بھارتی صارفین کی تنقید
بی جے پی نے ان کے بیان پر سخت ردعمل دیا اور اسے پاکستان کو ’کلین چٹ‘ دینے کے مترادف قرار دیا۔
چدمبرم نے غزہ کے حالات پر بھی بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ عورتیں اور بچے بھوک اور بمباری سے مر رہے ہیں، مگر دنیا خاموش ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ا پی چدمبرم بھارت بی جے پی پاکستان پہلگام حملہ کانگریس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا پی چدمبرم بھارت بی جے پی پاکستان پہلگام حملہ کانگریس پہلگام حملے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔