افریقی ملک کانگو میں چرچ پر حملہ، 38 سے زائد افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مشرقی کانگو کے صوبے اتوری کے شہر کومانڈا میں اتوار کی شب ایک چرچ پر ہونے والے خونریز حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوگئے۔
حملے کی ذمہ داری ’الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز‘ (ADF) پر عائد کی گئی ہے، جو ایک شدت پسند گروپ ہے اور 2019 میں داعش سے وفاداری کا اعلان کر چکا ہے۔ یہ حملہ مقامی کیتھولک چرچ پر کیا گیا جہاں عبادت گزار دعائیہ تقریب میں شریک تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق، رات 9 بجے کے قریب گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ "اب تک ہم نے 35 لاشیں دیکھی ہیں، زیادہ تر نوجوان ہیں جو یُخنری تحریک سے وابستہ تھے"، ایک مقامی بزرگ دیودونے کاتانابو نے بتایا۔
چرچ کے پادری فادر ایمے لوکانا کے مطابق 31 مقتولین یُخنری تحریک کے ارکان تھے، جبکہ چھ شدید زخمی اور کئی نوجوان لاپتہ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر سے مزید 7 لاشیں بھی ملی ہیں۔
مقامی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ حملہ کئی مہینوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد ہوا ہے۔ آخری بڑا حملہ فروری میں ہوا تھا جس میں 23 افراد مارے گئے تھے۔
کومانڈا شہر تجارتی مرکز ہے جو شمالی کیوو، ٹشوپو اور مانییما صوبوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ علاقے میں کانگو اور یوگنڈا کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے باوجود ADF گروہ کی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں جن میں اب تک ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔