پاکستان اور آسٹریلیا معدنیات کے شعبے میں تاریخی شراکت داری پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 جولائی ۔2025 )پاکستان اور آسٹریلیا نے معدنی وسائل کے شعبے میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، جس میں ریکو ڈیک منصوبے کی ترقی اور پاکستان اسٹریٹجیک انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے کلیدی کردار پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے. دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تازہ مذاکرات میں توانائی، معدنیات اور آبی وسائل کے انتظام میں اقتصادی شراکت داری پر اتفاق رائے ہوا ہے پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے وزیر توانائی نے آسٹریلیا کی کان کنی کی مہارت سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی.
(جاری ہے)
اس موقع پر آسٹریلیا نے پاکستانی اداروں کے لیے معدنیات کے شعبے میں جدید تربیتی پروگرامز کی پیشکش کی، جو ملک میں کان کنی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے ریکوڈک منصوبے کو اس شراکت داری میں مرکزی اہمیت حاصل ہے، جہاں 65 ارب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں ان میں 2 ارب ٹن تانبے اور 20 ملین اونس سونے کے وسیع ذخائر شامل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی راہیں دکھا سکتے ہیں. اس شراکت داری کے تحت ایس آئی ایف سی کی معاونت سے کان کنی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے لیے کاروبار دوست ماحول کو فروغ دیا جائے گا، جس سے نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے گا بلکہ ملک میں معدنی وسائل کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا یہ قدم پاکستان کی معاشی ترقی میں معدنی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے شعبے میں شراکت داری
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔