سیز فائر نہ کراتا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہوتی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر میں نہیں ہوتا دنیا میں 6 جنگیں ہوتیں جن میں سب سے بڑی جنگ پاک بھارت کی ہوتی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے ساتھ بہت زیادہ تجارت کرتا ہے۔ پھر میں پڑھ رہا ہوں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق جس پر میں نے سوچا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانا میرے لیے آسان ہوگا کیونکہ اس قبل، میں بھارت اور پاکستان تنازع کو بھی تجارتی دباؤ کے ذریعے سلجھا چکا ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ میں نے دونوں (تھائی لینڈ اور کمبوڈیا) کے وزرائے اعظم کو فون کیا اور کہا کہ ‘جب تک آپس میں جنگ ختم نہیں کرتے، کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ جب میں نے فون بند کیا، تو میرے خیال میں وہ ( تھائی لینڈ اور کمبوڈیا) مسئلہ سلجھانے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ چند دنوں سے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا جو بڑھ کر شہروں تک پھیل گیا تھا اور جس میں مجموعی ہلاکتیں دو درجن سے زائد ہوچکی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔