بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی تنازعہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
حریت ترجمان نے فورسز کے ہاتھوں سرینگر کے بالائی علاقے میں تین نوجوانوں کے دوران حراست قتل اور گجر بکروال برادری کے متعدد ارکان کو زخمی کرنے سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں تین نوجوانوں کی شہادت اور نہتے کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی تنازعہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں سرینگر کے بالائی علاقے میں تین نوجوانوں کے دوران حراست قتل اور گجر بکروال برادری کے متعدد ارکان کو زخمی کرنے سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت قتل و غارت، گرفتاریوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد جاری رکھنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی مذمت کی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کی رہائی کے لیے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔ حریت ترجمان نے کشمیری عوام سے 5 اگست کو یوم استحقاق کشمیر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل کی جب 2019ء میں بھارت نے جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر کے اس کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر سے جنوبی ایشیا کے امن کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس دیرینہ تنازعے کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس تنازعہ کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔