کشمیر المسلمز ریلیف آگنائزیشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں ہو چکی ہیں جبکہ رواں برس مئی میں پاک بھارت کشیدگی تاریخ کی شدید ترین کشیدگی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیر کمپین گلوبل کے سرپرست اور کشمیر المسلمز ریلیف آگنائزیشن کے چیئرمین نذیر احمد قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جو کشمیری عوام کی عظیم اور لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ نذیر احمد قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں بھارتی فالس فلیگ آپریشن، 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت اور اس کے بعد پاکستان کے جوابی اقدامات میں بھارتی جنگی طیاروں اور دفاعی تنصیبات کی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ نذیر قریشی نے کہا کہ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں ہو چکی ہیں جبکہ رواں برس مئی میں پاک بھارت کشیدگی تاریخ کی شدید ترین کشیدگی تھی، جو ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوتے ہوتے رہ گئی۔ جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روکا ہے اور وہ 27 ویں مرتبہ پاک بھارت کشیدگی روکنے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے کا کہہ چکے ہیں، جس نے مودی حکومت کے بیانیہ کو مضحکہ خیز بنا دیا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا۔

نذیر احمد قریشی نے کہا کہ عالم اسلام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار نے اسے ایک ابھرتی ہوئی عالمی قیادت کا درجہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی، لیکن اہلیان کشمیر نے تمام تر مظالم کے باوجود نہ تو سر تسلیم خم کیا، نہ اپنی تحریک آزادی ترک کی۔ انہوں نے کہا کہ آج خود بھارت نواز سیاستدان، بشمول فاروق عبداللہ، اعتراف کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی ختم نہیں کر سکا۔ نذیر احمد قریشی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط پاکستان ہی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کی ضمانت ہے، جو کشمیریوں کا حقیقی وکیل اور مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ مسئلہ کشمیر قریشی نے کہا تحریک آزادی نے کہا کہ

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا