WE News:
2026-06-03@08:43:40 GMT

رحیم یار خان: ڈاکوؤں کا پولیس پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید

اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT

رحیم یار خان: ڈاکوؤں کا پولیس پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید

رحیم یارخان میں پولیس چوکی پر ڈاکوؤں کے حملے کے نتیجے میں پانچ ایلیٹ فورس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کچے کے ڈاکوؤں نے 4 شہریوں کو اغوا کرلیا، 60 بھینسیں بھی چھین کر فرار

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکوؤں نے رحیم یارخان کی شیخانی پولیس چوکی کو نشانہ بنایا، ماہی چوک کے قریب ہونے والے حملے میں راکٹ بھی فائر کیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ 2 درجن سے زائد ڈاکوؤں نے چوکی پر حملہ کیا۔ شہید اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، محمد خلیل، کانسٹیبل نخیل اور غضنفر عباس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کا تاجر کچے کے ڈاکوؤں کے چنگل میں کیسے پھنسا؟ بازیابی کی کوششیں جاری

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اہلکاروں میں عرفان، سلیم اور نخیل کا تعلق بہاولنگر سے تھا جبکہ خلیل اور غضنفر کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔

حملے کے بعد فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے، پولیس بھاری ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے کارروائی کر رہی ہے۔

ادھر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ڈی پی او رحیم یار خان کو ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، تاہم پنجاب پولیس کا حوصلہ بلند ہے اور ایسی کارروائیاں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔

پولیس آپریشن پوری شدت سے جاری ہے اور کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس آپریشن پولیس مقابلہ ڈاکو رحیم یارخان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس آپریشن پولیس مقابلہ ڈاکو رحیم یارخان ڈاکوؤں نے

پڑھیں:

200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا

انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔

انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔

مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور