شیخانی پولیس چوکی پر ڈاکوئوں کاحملہ، 5 اہلکار شہید، 2 زخمی،ایک ڈاکو ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
صادق آباد میں شیخانی پولیس چوکی پر ڈاکوئوں کے حملے میں 5 اہلکار شہید اور2 زخمی ہوگئے،ایک ڈاکو بھی ماراگیا ۔ ترجمان پولیس صاد ق آباد کے مطابق رحیم یارخان کی شیخانی پولیس چوکی پر ڈاکوئوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جس میں 5 پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے ، فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی مارا گیا۔پولیس کے مطابق شہیداہلکاروں میں محمد عرفان ، محمد سلیم اور محمد خلیل، کانسٹیبل نخیل،غضنفر عباس شامل ہیں ،شہید ہونے والے 2 اہلکاروں کا تعلق رحیم یارخان جبکہ 3 کا تعلق بہاول نگر سے ہے ۔ پولیس چوکی پرڈاکوئوں کے حملے میں شہید 5 پولیس اہلکاروں کی لاشیں شیخ زید ہسپتال منتقل کردی گئیں۔پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا، حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ،ایلیٹ فورس کے ہمراہ بھاری ہتھیاروں سے مقابلہ جاری ہے، پولیس کی شیخانی پوسٹ پر حملہ کے بعد ڈی پی او عرفان علی سموں بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، پولیس حملہ کر کے فرار ہونے والے ڈاکوئوں سے مقابلہ اور تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ڈی پی او عرفان علی سموں نے کہا کہ پولیس ڈاکوئوں کے خلاف بھاری ہتھیار اور بکتر بند گاڑیاں استعمال کر رہی ہے، ڈاکوئوں کو بزدلانہ حملہ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، ڈاکو ریاست اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے، ڈاکوئوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ دوسری جانب شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے ڈاکوئوں کے حملے میں 5 ایلیٹ اہلکاروں کی شہادت کے معاملے پر آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لے لیا ، آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کر لی، آئی جی پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو فائرنگ میں ملوث ڈاکوئوں کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ،آئی جی پنجاب نے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے دوران شہادت کا رتبہ پانے والے ایلیٹ فورس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔آئی جی پنجاب عثمان انورنے کہا کہ ڈاکوئوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر چھپ کر بزدلانہ حملہ کیا، پنجاب پولیس کا مورال بلند، بزدلانہ کارروائیاں جانیں قربان کرنے والی پولیس فورس کا مورال پست نہیں کر سکتیں، کچے کے ڈاکوئوں کے خلاف پولیس آپریشن بھرپور طاقت سے جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پولیس چوکی پر شیخانی پولیس ڈاکوئوں کے ایک ڈاکو
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔