کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی، دنیا دہشتگردی کیخلاف ہماری کامیابیوں کی معترف: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے عوام، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ مین کثیرالجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد دہشت گردی اور ریاستی رٹ کے قیام کے حوالے سے قائم سٹیئرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کارروائیوں کی معترف ہے۔حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔ ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے زمینی آپریشن، متعلقہ قانون سازی، بامعنی عوامی رابطے اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اہم عناصر کا بھرپور اور مؤثر استعمال کیا گیا۔ اس موقع پر کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کردی۔ بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردار قابل تعریف اور قابل تحسین ہے۔ ارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار، افسران اور قربانی کے جذبے سے سرشار ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم، بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ادارے متحد اور یکسو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں، انٹیلیجنس بیورو، وزارت داخلہ، کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ بالخصوص پنجاب انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہایت مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج اور اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع، موثر اور قابل عمل حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاروائیوں اور تعاون سے سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس سے سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نشان دہی کرتا ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق وطن واپسی کے پروگرام پر عمل درآمد مؤثر طور سے جاری ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی تعاون رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی+ آئی این پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور امریکا کے مابین تاریخی تجارتی معاہدہ طے پانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’’ ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین تاریخی تجارتی معاہدے سے دونوں ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کو فروغ حاصل ہوگا اور آنے والے وقت میں شراکت داری میں بھی اضافہ ہوگا۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا پیغام میں اظہار مسرت کرتے ہوئے لکھا الحمد للہ! پاکستان کی امریکہ سے ڈیل طے پا گئی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک تجارتی محصولات میں کمی، توانائی، آئی ٹی، معدنیات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ علاوہ ازیں وزارت خزانہ کے مطابق پاک امریکہ معاہدے کے نتیجے میں باہمی ٹیرف خاص طور پر امریکہ میں پاکستانی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف میں کمی آئے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان اہم اقتصادی شعبوں خاص طور پر توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا باعث بنے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے خصوصاً ان تعلقات کو امریکی ریاستوں تک بڑھانے کے حوالے سے جاری کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی میسر آئے گی اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تجارت اور سرمایہ کاری روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کو بروئے کار لانے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ دریں اثناء وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ امریکا سے ٹریڈ ڈیل ایک مضبوط سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ امریکا سے تجارتی ڈیل ہماری معیشت کے لیے بڑی خوش آئند پیشرفت ہے۔ ڈیل کے نتیجے میں پاکستان سے امریکہ جانے والی اشیاء کے ٹیرف میں کمی ہوگی اور اس ٹیرف میں کمی سے بہت بڑا اثر آئے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کے چچا زاد بھائی سید تنویر الحسن گیلانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعاکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سید تنویر الحسن نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ خواجہ سعد رفیق نے وزیراعظم کی قیادت میں ملکی معیشت کی بہتر سمت پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے دہشت گردی کے خلاف شہباز شریف نے وفاقی وزیر پاکستان کی حکمت عملی نے کہا کہ کے مابین کے مطابق نے والے کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔