خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
بنوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پہلی بار اینٹی ڈرون گن کو استعمال کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ گن پشاور سے بنوں پولیس کو فراہم کی گئی ہے، جسے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق یہ اقدام صوبے میں دہشتگردی کے خلاف موثر کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بنوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پہلی بار اینٹی ڈرون گن کو استعمال کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ گن پشاور سے بنوں پولیس کو فراہم کی گئی ہے، جسے دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی پشاور سینٹرل پولیس آفس نے مزید بتایا کہ اینٹی ڈرون سسٹم خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کو بھی فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ ان علاقوں میں بھی دہشتگردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتری لائی جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف موجودہ سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ دہشتگردوں کی جدید حربوں کا توڑ کرنے میں بھی اہم ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استعمال کیا گیا اینٹی ڈرون کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔