Express News:
2026-06-03@08:45:54 GMT

قاتل مسیحائوں کی قتل گاہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

سب سے پہلے تو مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ بلکہ حیران اورشاداں و فرحاں ہوں کہ تاریخ میں پہلی بار منتخب عوامی شہنشاہوں کی کسی مجلس میں ’’عوام کالانعام‘‘ کی بات ہوئی ہے ، ورنہ یہ شہنشاہ تو عوام کو استعمال کرنے کے بعد ایسے بھول جاتے ہیں جیسے ایسی کوئی مخلوق اس دنیا میں ہے ہی نہیں ۔

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں

 بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

 دراصل وہ فنڈوں ،نوکریوں ،استحقاقوں کی بندر بانٹ میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ عوام نام کے ان کالانعاموں کو پانچ سال کے لیے مکمل طورپر بھول جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بات بھی ایک ہندو سینیٹر ڈاکٹر دنیش کمار نے کی ہے، اس نے سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بولتے ہوئے اس قتل عام کا ذکر کیا جو اس وقت اس مثالی فلاحی ملک میں ’’مسیحاؤں‘‘ کے ہاتھوں گلی گلی کوچے کوچے شہرشہر اورگاؤں میں جاری ہے۔ملک میں ڈاکٹروں کے بہیمانہ طرزعمل بے پناہ لمبے چوڑے نسخوں بلاضرورت ٹیسٹوں اورحاملہ خواتین کے بلاوجہ آپریشنوںکے معاملے پرہندو سینیٹرڈاکٹر دنیش کمار نے کی دہائی۔

پاکستان میں ڈاکٹرقصائی بنے ہوئے ہیں، اپنے کمیشن کے لیے بلاضرورت ادویات اورٹیسٹ لکھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر دنیش کمار نے توجہ دلاؤنوٹس پر سینیٹ کے اجلاس میں کہا کہ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ ڈاکٹر تین سے زیادہ دوائیاں نہیں لکھ سکتا لیکن یہاں صرف اپنے کمیشن کے لیے ڈاکٹر لمبے چوڑے نسخے لکھتے ہیں۔

بات کو حسب معمول وزیر انصاف وقانون نے چٹکی میں اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے ان کی شکایت وہاں جاکر کریں۔بات سرکاری اورعوامی منتخب نمایندوں کی دنیا میں تو آئی گئی ہوگئی لیکن درحقیقت یہ دونوں مسئلے بہت زیادہ گھمبیر اورناقابل برداشت ہوچکے ہیں،زیادہ لمبے چوڑے نسخے لکھنا اور حاملہ خواتین کے بلاوجہ پیٹ پھاڑنا ۔ جہاں تک نسخہ جات میں تین دواؤں کا تعلق ہے، یہ ایلوپیتھک یعنی مروجہ طرزعمل علاج کے عین مطابق ہیں کیوں کہ اس طرزعمل کی بنیاد تین اقسام کی دواؤں پر قائم ہیں، یہ جو بڑے اسٹوروں کی بڑی بڑی الماریوں میں بے حد وحساب دوائیں پڑی ہوتی ہیں یہ سب کی سب صرف ان زمروں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں ، نمبر ایک، اینٹی بائیوٹک۔نمبردو‘آرام پہنچانے والی اورنمبرتین۔ ٹانکس۔

یہ تین ہی دوائیاں ہیں جومختلف ناموں ، شکلوں اور پیکنگ میں چل رہی ہیں ،کمپنیاں ان کو مختلف فیشن ایبل شکلوں میں بناتی اورسپلائی کرتی ہیں اورڈاکٹر لوگ ان کمپینوں سے تعلقات کی بنا پر چلاتے ہیں ، چنانچہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا ظالمانہ وحشیانہ اورقاتلانہ کاروبار یہی علاج معالجہ ہے ۔

ڈاکٹردنیش کمار نے قصائی خانے کا لفظ استعمال کیا ہے جو بہت کم ہے ، قصائی بے چارہ تو ان مسیحاؤں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، قصائی کا تو پیشہ یہی ہے لیکن ان کا پیشہ مسیحائی ہے اورکرتے ہیں چنگیزوہلاکو کا کام۔تین دواؤں کے بجائے آٹھ دس مہنگی دوائیں تو عام سی بات ہے لیکن اس سے پہلے ٹیسٹوں، لیبارٹریوں اورایکسریز وغیرہ کی مار ماری جاتی ہے وہ ایک الگ داستان الم ہے بلکہ اب تو دوائیں لکھنے کی بھی تکلیف نہیں کی جاتی ،مریض جب کلینک کے چھوٹے ڈاکٹروں، لیبارٹریوں اورٹیسٹوں سے ہلکان ہوکر بڑے قصائی کے پاس پہنچتا ہے تو اس سے پرچہ لے کر ان مہروں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے جو اس کی آدھی میز پر پڑی ہوتی ہیں۔

 ان مہروں پرجو دواسازکمپنیاں فراہم کرتی ہیں ، دوا اورطریقہ استعمال لکھا ہوتاہے ، ڈاکٹر ان میں سے مہریں اٹھا اٹھا کر پرچے پر ثبت کرتا جاتا ہے ، پرچے کے دونوں طرف آٹھ دس دواؤں کی مہریں لگانے کے بعد وہ دستخط کرکے لکھ دیتا ہے کہ ہفتہ یا پندرہ دن بعد پھر آنا ۔ اورپرچہ مریض کو پکڑا دیتا ہے جو وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اٹھاتا ہے اورسامنے میڈیکل اسٹور پر چلاجاتا ہے جہاں ڈاکٹر کا بیٹا یابھائی یا ملازم اسے دواؤں سے لاد دیتا ہے ۔

حالیہ اعدادوشمار کا تو پتہ نہیں اورویسے بھی اب جھوٹ اتناپھیل چکا ہے کہ اعداد وشمار کا کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے ۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ساڑھے سات سو دوائیں رجسٹرڈ تھیں ، بنگلہ دیش میں نوسو۔ اور پاکستان میں ذرا دل تھام لیجیے اوراگر قریب میں کوئی سہارا ہوتو اسے لے کر سنئیے کہ پاکستان میں ’’اٹھائیس ہزار‘‘ دوائیں رجسٹرڈ تھیں اور ہر جہت میں جو ’’ترقی‘‘ ہوئی ہے۔

اس کا اندازہ کرکے اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو ان پرانے اعداد وشمار کو چار سے ضرب دے لیجیے اوریہ ساری دوائیاں بدنصیب کالانعاموں کو کھلائی جارہی ہیں بلکہ میراخیال ہے کہ لوگ اگر اس عظیم ظلم واستبداد سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو مستند اوربڑے بڑے ماہرین کے بجائے عطائیوں اور دم چف کی طرف واپس جاتے ہیں ۔ وہ کم ازکم یا تو آر کردیں یا پار۔ یوں آگ کے الاؤ کے اوپر لٹکنے سے اوراذیت ناک موت سے تو بچ جائیں گے۔ دنیابھر میں جہاں جہاں جس جس قسم کے مظالم ہورہے ہیں ان میں سب سے زیادہ مظالم اورپھر خاص طورپر پاکستان میں علاج معالجہ کے نام پر ہورہے ہیں ۔

رہے پوچھنے والے تو ان کو بیٹھے بٹھائے اپناحصہ مل جاتا ہے ۔

سحر زہاتف غیبم رسید مژدہ بگوش

کہ دورشاہ شجاع است می دلیربنوش

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں جاتے ہیں

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود