Express News:
2026-07-24@10:38:01 GMT

قاتل مسیحائوں کی قتل گاہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

سب سے پہلے تو مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ بلکہ حیران اورشاداں و فرحاں ہوں کہ تاریخ میں پہلی بار منتخب عوامی شہنشاہوں کی کسی مجلس میں ’’عوام کالانعام‘‘ کی بات ہوئی ہے ، ورنہ یہ شہنشاہ تو عوام کو استعمال کرنے کے بعد ایسے بھول جاتے ہیں جیسے ایسی کوئی مخلوق اس دنیا میں ہے ہی نہیں ۔

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں

 بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

 دراصل وہ فنڈوں ،نوکریوں ،استحقاقوں کی بندر بانٹ میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ عوام نام کے ان کالانعاموں کو پانچ سال کے لیے مکمل طورپر بھول جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بات بھی ایک ہندو سینیٹر ڈاکٹر دنیش کمار نے کی ہے، اس نے سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بولتے ہوئے اس قتل عام کا ذکر کیا جو اس وقت اس مثالی فلاحی ملک میں ’’مسیحاؤں‘‘ کے ہاتھوں گلی گلی کوچے کوچے شہرشہر اورگاؤں میں جاری ہے۔ملک میں ڈاکٹروں کے بہیمانہ طرزعمل بے پناہ لمبے چوڑے نسخوں بلاضرورت ٹیسٹوں اورحاملہ خواتین کے بلاوجہ آپریشنوںکے معاملے پرہندو سینیٹرڈاکٹر دنیش کمار نے کی دہائی۔

پاکستان میں ڈاکٹرقصائی بنے ہوئے ہیں، اپنے کمیشن کے لیے بلاضرورت ادویات اورٹیسٹ لکھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر دنیش کمار نے توجہ دلاؤنوٹس پر سینیٹ کے اجلاس میں کہا کہ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ ڈاکٹر تین سے زیادہ دوائیاں نہیں لکھ سکتا لیکن یہاں صرف اپنے کمیشن کے لیے ڈاکٹر لمبے چوڑے نسخے لکھتے ہیں۔

بات کو حسب معمول وزیر انصاف وقانون نے چٹکی میں اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے ان کی شکایت وہاں جاکر کریں۔بات سرکاری اورعوامی منتخب نمایندوں کی دنیا میں تو آئی گئی ہوگئی لیکن درحقیقت یہ دونوں مسئلے بہت زیادہ گھمبیر اورناقابل برداشت ہوچکے ہیں،زیادہ لمبے چوڑے نسخے لکھنا اور حاملہ خواتین کے بلاوجہ پیٹ پھاڑنا ۔ جہاں تک نسخہ جات میں تین دواؤں کا تعلق ہے، یہ ایلوپیتھک یعنی مروجہ طرزعمل علاج کے عین مطابق ہیں کیوں کہ اس طرزعمل کی بنیاد تین اقسام کی دواؤں پر قائم ہیں، یہ جو بڑے اسٹوروں کی بڑی بڑی الماریوں میں بے حد وحساب دوائیں پڑی ہوتی ہیں یہ سب کی سب صرف ان زمروں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں ، نمبر ایک، اینٹی بائیوٹک۔نمبردو‘آرام پہنچانے والی اورنمبرتین۔ ٹانکس۔

یہ تین ہی دوائیاں ہیں جومختلف ناموں ، شکلوں اور پیکنگ میں چل رہی ہیں ،کمپنیاں ان کو مختلف فیشن ایبل شکلوں میں بناتی اورسپلائی کرتی ہیں اورڈاکٹر لوگ ان کمپینوں سے تعلقات کی بنا پر چلاتے ہیں ، چنانچہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا ظالمانہ وحشیانہ اورقاتلانہ کاروبار یہی علاج معالجہ ہے ۔

ڈاکٹردنیش کمار نے قصائی خانے کا لفظ استعمال کیا ہے جو بہت کم ہے ، قصائی بے چارہ تو ان مسیحاؤں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، قصائی کا تو پیشہ یہی ہے لیکن ان کا پیشہ مسیحائی ہے اورکرتے ہیں چنگیزوہلاکو کا کام۔تین دواؤں کے بجائے آٹھ دس مہنگی دوائیں تو عام سی بات ہے لیکن اس سے پہلے ٹیسٹوں، لیبارٹریوں اورایکسریز وغیرہ کی مار ماری جاتی ہے وہ ایک الگ داستان الم ہے بلکہ اب تو دوائیں لکھنے کی بھی تکلیف نہیں کی جاتی ،مریض جب کلینک کے چھوٹے ڈاکٹروں، لیبارٹریوں اورٹیسٹوں سے ہلکان ہوکر بڑے قصائی کے پاس پہنچتا ہے تو اس سے پرچہ لے کر ان مہروں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے جو اس کی آدھی میز پر پڑی ہوتی ہیں۔

 ان مہروں پرجو دواسازکمپنیاں فراہم کرتی ہیں ، دوا اورطریقہ استعمال لکھا ہوتاہے ، ڈاکٹر ان میں سے مہریں اٹھا اٹھا کر پرچے پر ثبت کرتا جاتا ہے ، پرچے کے دونوں طرف آٹھ دس دواؤں کی مہریں لگانے کے بعد وہ دستخط کرکے لکھ دیتا ہے کہ ہفتہ یا پندرہ دن بعد پھر آنا ۔ اورپرچہ مریض کو پکڑا دیتا ہے جو وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اٹھاتا ہے اورسامنے میڈیکل اسٹور پر چلاجاتا ہے جہاں ڈاکٹر کا بیٹا یابھائی یا ملازم اسے دواؤں سے لاد دیتا ہے ۔

حالیہ اعدادوشمار کا تو پتہ نہیں اورویسے بھی اب جھوٹ اتناپھیل چکا ہے کہ اعداد وشمار کا کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے ۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ساڑھے سات سو دوائیں رجسٹرڈ تھیں ، بنگلہ دیش میں نوسو۔ اور پاکستان میں ذرا دل تھام لیجیے اوراگر قریب میں کوئی سہارا ہوتو اسے لے کر سنئیے کہ پاکستان میں ’’اٹھائیس ہزار‘‘ دوائیں رجسٹرڈ تھیں اور ہر جہت میں جو ’’ترقی‘‘ ہوئی ہے۔

اس کا اندازہ کرکے اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو ان پرانے اعداد وشمار کو چار سے ضرب دے لیجیے اوریہ ساری دوائیاں بدنصیب کالانعاموں کو کھلائی جارہی ہیں بلکہ میراخیال ہے کہ لوگ اگر اس عظیم ظلم واستبداد سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو مستند اوربڑے بڑے ماہرین کے بجائے عطائیوں اور دم چف کی طرف واپس جاتے ہیں ۔ وہ کم ازکم یا تو آر کردیں یا پار۔ یوں آگ کے الاؤ کے اوپر لٹکنے سے اوراذیت ناک موت سے تو بچ جائیں گے۔ دنیابھر میں جہاں جہاں جس جس قسم کے مظالم ہورہے ہیں ان میں سب سے زیادہ مظالم اورپھر خاص طورپر پاکستان میں علاج معالجہ کے نام پر ہورہے ہیں ۔

رہے پوچھنے والے تو ان کو بیٹھے بٹھائے اپناحصہ مل جاتا ہے ۔

سحر زہاتف غیبم رسید مژدہ بگوش

کہ دورشاہ شجاع است می دلیربنوش

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں جاتے ہیں

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک