بھارتی ٹیم کے لیے بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف سیریز سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
بھارتی وکٹ کیپر بیٹر رشبھ پنت انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے بقیہ میچز سے باہر ہو گئے ہیں، چوتھے ٹیسٹ کے پہلے دن دائیں پاؤں پر لگنے والی چوٹ اب فریکچر ثابت ہو گئی ہے۔
بی سی سی آئی نے تصدیق کی ہے کہ پنت باقی ٹیسٹ میچ میں وکٹ کیپنگ نہیں کریں گے اور بیٹنگ ’ٹیم کی ضرورت کے مطابق‘ کریں گے، ان کی جگہ دھروو جریَل بقیہ میچ میں وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیں گے۔
???? Stuart Broad heaped praises on Rishabh Pant.
— CricXtasy (@CricXtasy) July 24, 2025
اطلاعات کے مطابق یہ فریکچر پنت کے دائیں پاؤں کی میٹاٹارسَل ہڈی میں ہے، اور ابتدائی طبی تشخیص کے مطابق انہیں 6 سے 8 ہفتے آرام کی ضرورت ہوگی۔ مانچسٹر میں بھارتی ٹیم کے ہوٹل کے باہر شائقین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں پنت کے دائیں پاؤں پر ’مون بوٹ‘ واضح طور پر دیکھا گیا۔
یہ چوٹ اس وقت لگی جب دوسرے سیشن میں رشبھ پنت نے کرس ووکس کی گیند پر ریورس سوئیپ کھیلنے کی کوشش کی، لیکن گیند ان کے بیٹ کے اندرونی کنارے سے لگ کر سیدھی ان کے پاؤں پر آ لگی، وہ فوری طور پر شدید تکلیف میں نظر آئے اور ان کے پاؤں پر سوجن آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
اس وقت پنت 37 رنز پر کھیل رہے تھے جب انہوں نے ریٹائر ہرٹ ہونے کا فیصلہ کیا، انہیں گولف کارٹ پر گراؤنڈ سے باہر لے جایا گیا۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق رشبھ پنت نے جلد ہی اسکین کروائے، جن میں ان کے پاؤں میں فریکچر کی تصدیق ہوئی۔ جب گیند ان کے پاؤں پر لگی تو انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی، تاہم پنت درد کے باوجود کھڑے رہے اور ریویو کے بعد ناٹ آؤٹ قرار دیے گئے، مگر اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہونے کی کیفیت ان کے کرب سے عیاں تھی۔
بھارتی نائب کپتان اور وکٹ کیپر رشبھ پنت کو پہلے اسٹیڈیم کے میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، جہاں کپتان شبمن گل ان کی خیریت معلوم کرنے پہنچے، بعد ازاں رشبھ پنت کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
انگلینڈ کے اسپنر لیام ڈاسن نے دن کے اختتام پر کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ رشبھ پنت اب اس میچ میں مزید حصہ لے پائیں گے، اسی دوران، رشبھ پنت کے بیٹنگ ساتھی بی سائی سدھارسن نے بھی تصدیق کی کہ جی ہاں، وہ واقعی شدید درد میں تھے۔
مزید پڑھیں:
یہ رشبھ پنت کی مسلسل دوسرے ٹیسٹ میں چوٹ ہے۔ اس سے پہلے لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی پہلی اننگز کے دوران وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے ان کی بائیں شہادت کی انگلی پر گیند لگی تھی، جس کے بعد دھروو جریَل نے اس میچ میں بھی وکٹ کیپنگ کی تھی۔
پنت کی 48 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز مجموعی طور پر محتاط تھی، تاہم اس میں ان کے مخصوص جارحانہ شاٹس بھی شامل تھے، جن میں جوفرا آرچر کے خلاف ایک زبردست سلوگ سوئیپ شامل ہے، جس کے فوراً بعد انہوں نے ایک ناکام ریورس سوئیپ بھی کھیلا تھا۔
مزید پڑھیں:
بی سی سی آئی نے تاحال رسمی طور پر رشبھ پنت کے فریکچر کی تصدیق یا پانچویں ٹیسٹ کے لیے ان کے متبادل کا اعلان نہیں کیا ہے، انگلینڈ لائنز اور انڈیا اے کے درمیان کھیلے گئے 2 غیر سرکاری ٹیسٹ میچز کے دوران دھروو جریَل کے بعد ایشان کشن دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انگلینڈ ایشان کشن بھارت جوفرا آرچر دھروو جریل رشبھ پنت کرکٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ ایشان کشن بھارت جوفرا ا رچر دھروو جریل کرکٹ انگلینڈ کے ان کے پاؤں وکٹ کیپنگ کے مطابق پاؤں پر میچ میں پنت کے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔