ریاست نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے عوام، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگمین کثیرالجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد دہشت گردی اور ریاستی رٹ کے قیام کے حوالے سے قائم اسٹیرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کارروائیوں کی معترف ہے، ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے زمینی آپریشن، متعلقہ قانون سازی، بامعنی عوامی رابطے اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اہم عناصر کا بھرپوراور مؤثراستعمال کیا گیا۔
اس موقع پر کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردار قابل تعریف اور قابل تحسین ہے، ارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار، افسران اور قربانی کے جذبے سے سرشار ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم، بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ادارے متحد اور یکسو ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں، انٹیلیجنس بیورو، وزارت داخلہ،کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ بالخصوص پنجاب انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہایت مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج اور اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع، موثر اور قابل عمل حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاروائیوں اور تعاون سے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس سے اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نشان دہی کرتا ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق وطن واپسی کے پروگرام پر عمل درآمد مؤثر طور سے جاری ہے۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر براۓ بین الصوبائی تعاون رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف جنگ نے دہشت گردی کے خلاف وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان کی حکمت عملی کے لیے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان