پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ خالی ہونے کانوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 جولائی ۔2025 )پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے 9 مئی 2023 کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہوچکا ہے، قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجام دے رہے ہیں آئندہ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کو اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کرنا ہوگا.
(جاری ہے)
یاد رہے کہ 22 جولائی کو انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر اور دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سانحہ 9 مئی 2023 کے حوالے سے میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 کا فیصلہ سنایا تھا. انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر اور رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی کے 32 راہنماﺅں اور کارکنوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی تھی سزا پانے والوں میں سابق ایم این اے بلال اعجاز بھی شامل ہیں، ملزمان پر پرتشدد احتجاج، جلاﺅ گھیراﺅ اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے. اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا ملک احمد بچھر کا کہنا تھا کہ عدالت نے سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمے کا قانونی ضابطے پورے کیے بغیر خلاف آئین فیصلہ دیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی عدالت اپوزیشن لیڈر حزب اختلاف ملک احمد
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔