ملک میں کوئی قانون، انصاف اور عدالت نہیں ہے، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کی لیڈر شپ کو 10-10 اور 20-20 سال کی سزائیں دے دی گئیں، یہاں بند عدالتیں اور بند فیصلے ہوتے ہیں، یہ ملک کیسے چلے گا اس کا آج کسی کو کوئی احساس نہیں، آئین و قانون سے ہی ملکی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم اور سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی قانون، انصاف اور عدالت نہیں ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت یہاں ملک کے شہریوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں، آج کیوں اس ملک کے نوجوان بندوق اٹھاتے ہیں؟ آج بلوچستان اور فاٹا میں کیا حالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ضم شدہ اضلاع کو وہ رقم بھی نہیں ملی جو سابق فاٹا کا حصہ ہوا کرتی تھی، ملک میں کوئی قانون، انصاف اور عدالت نہیں ہے، یہاں کوئی بھی جو مرضی کرلے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کی لیڈر شپ کو 10-10 اور 20-20 سال کی سزائیں دے دی گئیں، یہاں بند عدالتیں اور بند فیصلے ہوتے ہیں، یہ ملک کیسے چلے گا اس کا آج کسی کو کوئی احساس نہیں، آئین و قانون سے ہی ملکی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، ملک میں ناانصافیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ملک کے عوام آئے دن غریب سے غریب ہوتے جارہے ہیں، یہاں اشرافیہ امیر سے امیر ہوتی جارہی ہے، چینی کی ایکسپورٹ شروع ہوتے ہی قیمتیں بڑھ گئیں، کسان کو ایک پیسے کا فائدہ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی ملک میں نہیں ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔