ڈی جی آئی ایس پی آر کی آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کیساتھ نشست
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
میرپور، آزاد کشمیر:
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست کی۔
خصوصی نشست میں خان محمد خان پوسٹ گریجویٹ کالج، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار گرلز کے طلباء اور اساتذہ نے شرکت کی۔
طلباء کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر طلبہ اور اہل کشمیر کی طرف سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور جانوں کا نظرانہ دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔
اساتذہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔