آپریشن مہادیو سے متعلق کوئی بھی بھارتی دعویٰ پاکستان کیلیے اہمیت نہیں رکھتا، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد:
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ آپریشن مہادیو سے متعلق کوئی بھی بھارتی دعویٰ پاکستان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
آپریشن سندور پر بھارتی پارلیمنٹ میں بحث پر دفتر خارجہ کی جانب سے ردعمل سامنے آ گیا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان آپریشن سندور پر ہندوستانی رہنماؤں کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتا ہے۔ اس طرح کے بیانات تنازعات کو بڑھاوا دینے کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کی تحقیقات اور ثبوتوں کے بغیر پاکستان پر حملہ کیا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان میں حملہ کیا۔ بھارتی حملے سے بے گناہ بچے، خواتین اور مرد شہید ہوئے۔ پاکستان نے بھارتی لڑاکا طیاروں اور فوجی اہداف کو بے اثر کرنے میں شاندار کامیابی حاصل کی ، جو کہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔
ترجمان نے بھارتی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی مسلح افواج کے نقصانات کو تسلیم کریں۔ بھارت جنگ بندی کو عملی جامہ پہنانے میں تیسرے فریق کے کردار کو قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے ہندوستان کو پہلگام حملے کی تحقیقات کی پیشکش کی ، بھارت نے وزیراعظم پاکستان کی انکوائری کی پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ بھارت نے بیک وقت جج، جیوری اور جلاد کے طور پر کام کیا۔
ترجمان کے مطابق نام نہاد آپریشن مہادیو سے متعلق کوئی بھی دعویٰ ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے دیا گیا اکاؤنٹ من گھڑت ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پہلگام حملے کے مبینہ مجرم لوک سبھا کی بحث کے آغاز پر ہی مارے گئے؟۔ پاکستان مستقبل میں بھی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے 20 سے 28 جولائی تک امریکا کا دورہ کیا اور اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ اسحاق ڈار کی واشنگٹن میں دیگر مصروفیات بھی رہیں۔ اس دوران انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات بھی کی، جس میں عالمی اور خطے کی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ بھارت نے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔