لیجنڈز لیگ، پاک بھارت سیمی فائنل سے قبل اہم اسپانسر پیچھے ہٹ گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025ء کے سیمی فائنل میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلہ متوقع ہے لیکن بھارتی میڈیا اور اسپانسرز ایسا نہیں چاہتے اس لیے اہم میچ سے قبل اسپانسر پیچھے ہٹ گئے۔
ہندوستانی اسپانسر ’ایز مائی ٹرپ‘ کے سربراہ نشانت پٹی سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم انڈین ٹیم کو ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں شاندار کارکردگی پر دل سے مبارکباد دیتے ہیں، آپ نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیجنڈ لیگ، کیا بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں کپتان شاہد آفریدی ہوں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سیمی فائنل صرف ایک اور میچ نہیں ہے۔ دہشت گردی اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی ایسے ایونٹ کی حمایت نہیں کر سکتے جو دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرے۔
India vs Pakistan – WCL Semi-Final
We applaud Team India @India_Champions for their outstanding performance in the World Championship of Legends, you’ve made the nation proud.
However, the upcoming semi-final against Pakistan is not just another game, Terror and cricket cannot…
— Nishant Pitti (@nishantpitti) July 30, 2025
نشانت پٹی نے مزید کہا کہ ہم نے ہندوستانی عوام کی آواز سن لی ہے، کل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025ء کے سیمی فائنل میچ سے ’ایز مائی ٹرپ‘ کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ چیزیں کھیل سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے ملک، بعد میں کاروبار۔
یہ بھی پڑھیں: ’انڈیا کس منہ سے کھیلے گا!‘ شاہد آفریدی کے طنز پر ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا
یاد رہے کہ پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ افتتاحی میچ میں انگلینڈ کو شکست دی، دوسرے میچ میں بھارت کی جانب سے بائیکاٹ کے باوجود پاکستان نے تیسرے مقابلے میں جنوبی افریقہ کو 31 رنز سے ہرایا، جبکہ چوتھے میچ میں ویسٹ انڈیز کو 49 رنز سے زیر کیا تھا۔
پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پہلی پوزیشن ہے، جنوبی افریقہ کی دوسری اور آسٹریلیا کی تیسری پوزیشن ہے، اس طرح سیمی فائنل میں پاکستان اور بھارت 31 جولائی کو مدمقابل ہوں گے جبکہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایز مائی ٹرپ پاکستان بمقابلہ انڈیا شاہد آفریدی نشانت پٹی ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025ء
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایز مائی ٹرپ پاکستان بمقابلہ انڈیا شاہد ا فریدی نشانت پٹی ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025ء ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز سیمی فائنل
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔