معرکہ حق میں شکست کھانے والا بھارت فتنتہ الخوارج و ہند سے ہائبرڈ جنگ کا سہارا لے رہا، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد:چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت معرکۂ حق میں شکست کھا چکا ہے اور اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند جیسے پروکسیز کے ذریعے ہائبرڈ وار کا سہارا لے رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے 16ویں اجلاس کے شرکاء سے ملاقات اور خطاب کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ ‘‘بلوچستان کی ترقی، قومی یکجہتی کی ضمانت ہے۔‘‘
اس ورکشاپ میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندے، سرکاری افسران، دانشور، صحافی اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’’یہ تمام فتنہ باز عناصر بھی ان شاء اللہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو انہیں معرکۂ حق میں ملا تھا۔‘‘
آرمی چیف نے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج دہشتگردی کی لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی کھلی سرپرستی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے محبِ وطن عوام، خاص طور پر بلوچ عوام کی حب الوطنی کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتی، اس لیے اس کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر ایک آواز بننا ہوگا۔ فیلڈ مارشل، اجتماعی قومی عزم کے بغیر دہشتگردی جیسے خطرے سے نمٹنا ممکن نہیں۔
فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے تعاون کو مزید بہتر بنانے اور صوبے کی ترقی کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو بھی دہرایا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ مادرِ وطن کو درپیش کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، قومی وقار اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نشست کا اختتام آرمی چیف اور شرکاء کے درمیان آزادانہ اور بھرپور سوال و جواب کی نشست پر ہوا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل نے کہا کہ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔