پاکستان نے بھارتی لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق بیانات کو مسترد کر دیا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی رہنماؤں کے الزامات اور اشتعال انگیز دعوے بے بنیاد ہیں، بھارتی بیانات حقائق مسخ کرنے اور جارحیت کو جواز دینے کی کوشش ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کی تحقیقات کے بغیر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، بھارت اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، پاکستان نے بھارتی طیاروں اور اہداف کو نشانہ بنا کر کامیابی حاصل کی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی رہنما اپنا نقصان تسلیم کریں اور تیسرے فریق کے کردار کو مانیں، پاکستان کی شفاف آزادانہ تحقیقات کی پیشکش بھارت نے مسترد کی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آپریشن مہادیو سے متعلق بھارتی دعوے پاکستان کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتے، بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا اورخود ہی جج، جیوری اور ایگزیکیوشن بن گیا، بھارتی وزیر داخلہ کا بیان جھوٹ اور کہانیوں پر مبنی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پہلگام حملے کے مبینہ ملزمان لوک سبھا بحث کے آغاز میں ہی مارے گئے، مئی 2025 میں پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، ہمارے نزدیک تعلقات کا واحد اصول خود مختاری کا احترام اور اقوام متحدہ چارٹر پر عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے آپریشن سندور مودی کے امیج کو بہتر بنانے کیلئے کیا گیا، راہول گاندھی جنگ رکنے کا اعلان ہماری فوج یا حکومت نے نہیں امریکی صدر نے کیا: پریانکا گاندھی پاکستان کو کلین چٹ کیوں دی؟ چدم برم کے بیان پر امیت شاہ برہم

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پر ایٹمی بلیک میلنگ کے بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے بھارت کو روایتی صلاحیتوں کے ذریعے روکا، بھارتی رہنماؤں کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیانات بے بنیاد ہیں، بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی معاہدوں کی توہین ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائی پر فخر افسوس ناک ہے،  بھارت غلط معلومات، جنگی جنون سے خطہ غیر مستحکم کررہا ہے، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاکستان نے بھارتی پاکستان نے بھارت دفتر خارجہ کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ