نادرا کا برطانیہ میں رہنے والے شہریوں کےلیے بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کی جانب سے 2 اور 3 اگست 2025 کو برطانیہ کے بڑے شہروں میں موبائل رجسٹریشن ڈرائیو منعقد کی جائیگی۔
نادرا کے اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹیز کو ضروری شناختی خدمات فراہم کرنا ہے، موبائل رجسٹریشن وین برٹن آن ٹرینٹ (برمنگھم)، مڈلزبرو (بریڈ فورڈ) اور بیلفاسٹ (مانچسٹر) کے مقام پر لوگوں کی سہولت کےلیے موجود ہوگی۔
یہ وین کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قومی شناختی کارڈز (نائیکیوپ) اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (ایف آر سی) کے اجرا اور تجدید کے لیے خدمات فراہم کریں گی۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پرانے CNICs یا B-Forms لے کر آئیں تاکہ جلد پروسیسنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ خواتین حاضرین کی سہولت اور آرام دہ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے علیحدہ کاؤنٹر اور خواتین عملہ دستیاب ہوگا۔
موبائل رجسٹریشن کا یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے شناختی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے نادرا کی حکمت عملی کے تحت منعقد کیا جارہا ہے۔
خاص طور پر وین کی سہولت ان لوگوں کے لیے ہے جو مستقل رجسٹریشن مراکز کا دورہ نہیں کر سکتے، اس اقدام کے ساتھ ساتھ، نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ بھی شہریوں کےلیے دستیاب ہے۔
پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے شہری سی این آئی سی کی تجدید اور ایف آر سی کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، اس کے علاوہ پیدائش، موت، اور ازدواجی حیثیت کا اندراج بھی کرایا جاسکتا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔