پاکستان کی 100 ٹن کی پہلی امدادی کھیپ فلسطین بھجوانے کی تیاری مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے 100 ٹن کی پہلی امدادی کھیپ فلسطین بھجوانے کی تیاری مکمل کرلی. پہلی امدادی پرواز آج شام اسلام آباد ائیرپورٹ سے روانہ ہو گی۔این ڈی ایم اے کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چئیرمن این ڈی ایم اے لیفٹنینٹ جنرل انعام حیدر ملک امدادی سامان کی روانگی تقریب کے مہمان خصوصی ہونگے 100 ٹن امدادی سامان خصوصی پرواز کے ذریعے عمان، اردن پہنچے گا۔امدادی کھیپ غذائی اشیاء اور ادویات پر مشتمل ہے، این ڈی ایم اے خصوصی پروازوں کے ذریعے کل 200 ٹن امدادی سامان فلسطین بھجوائے گا۔وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے ابتک مجموعی طور پر 1 ہزار 715 ٹن امداد فلسطین بھجوا چکا ہے، پاکستان کی جانب سے غزہ و فلسطین کیلئے 17 امدادی کھیپ ہے، جو آج روانہ کی جا رہی۔غزہ کے لیے دو خصوصی پیکچ کی پہلی کھیپ روانہ کی جائیں گی 200 ٹن کے خصوصی پیکچ کی ایک کھیپ آج جبکہ دوسری کچھ دنوں میں روانہ کی جائے گی۔مجموعی طور پر غزہ بھیجی جانے والی یہ 17 کھیپ ہے 17 ویں کھیپ میں 65 ٹن تیار کھانا، 20 ٹن بچوں کے لیے خشک دودھ، 5 ٹن بسکٹ، اور 10 ٹن ادویات شامل ہیں۔ اگلے چند دنوں میں روانہ ہونے والی دوسری پرواز کے ساتھ یہ مجموعہ وزن 1,815 ٹن تک پہنچ جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے امدادی کھیپ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔