بیجنگ :
چائنا ریلوے ہوہوٹ گروپ کمپنی لمیٹڈ نے تین اگست کو کہا کہ چین۔یورپ ریلوے سروس کے مرکزی کوریڈور سے روانہ ہونے والی مال بردار ٹرینوں کی کل تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطابق
اندرونی منگولیا خود اختیارعلاقے میں ایرنہوٹ پورٹ چین۔یورپ ریلوے سروس کے مرکزی کوریڈور کا اہم داخلی۔خارجی نقطہ ہے۔ حالیہ برسوں میں، چین کے بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی تعاون میں مسلسل اضافے کی بدولت ، ایرنہوٹ پورٹ پر ٹرینوں کی تعداد ، روٹس ، فریکوئنسی اور نقل و حمل کے سامان کی اقسام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدائی شپمنٹ میں بنیادی طور پر دھات، کیمیکل اور ملبوسات کی مصنوعات شامل تھیں، لیکن اب ٹرینوں میں نئی توانائی والی گاڑیاں، الیکٹرانکس اور گھریلو آلات جیسی اعلیٰ قدر والی مصنوعات لے جائی جاتی ہیں۔
چین۔یورپ ریلوے سروس کے مرکزی کوریڈور سے مال بردار ٹرینوں کی سروس 2013میں شروع ہوئی تھی ، 2022 میں ٹرینوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ دوسرا “10 ہزار” سر کرنے میں صرف تین سال لگے۔
چین۔یورپ ریلوے سروس کے مرکزی کوریڈور کے تحت اس وقت 73 روٹس جرمنی، پولینڈ سمیت 10 سے زائد ممالک کے 70 سے زائد اہم اسٹیشنوں تک پہنچتے ہیں، جو چین کے 24 صوبائی سطح کے علاقوں کے 60 سے زائد شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا