وزیراعظم کی ہدایت پر 100 ٹن کی پہلی امدادی کھیپ فلسطین بھجوانے کی تیاری مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے 100 ٹن کی پہلی امدادی کھیپ فلسطین بھجوانے کی تیاری مکمل کرلی ، پہلی امدادی پرواز آج شام اسلام آباد ائیرپورٹ سے روانہ ہو گی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چئیرمن این ڈی ایم اے لیفٹنینٹ جنرل انعام حیدر ملک امدادی سامان کی روانگی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ اس موقع پر 100 ٹن امدادی سامان خصوصی پرواز کے ذریعے عمان، اردن پہنچے گا۔
محدود مدت تک عجائب گھروں میں داخلہ مفت؛ حکومت نے بڑا اعلان کردیا
این ڈی ایم اے خصوصی پروازوں کے ذریعے کل 200 ٹن امدادی سامان فلسطین بھجوائے گا۔ امدادی کھیپ غذائی اشیاء اور ادویات پر مشتمل ہے ۔ پاکستان کی جانب سے غزہ و فلسطین کیلئے 17 امدادی کھیپ ہے، جو آج روانہ کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے اب تک مجموعی طور پر 1 ہزار 715 ٹن امداد فلسطین بھجوا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے امدادی کھیپ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔