حماس نے ہتھیار ڈالنے کو فلسطین کی آزادی سے مشروط کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
حماس نے ہتھیار ڈالنے کو فلسطین کی آزادی سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 August, 2025 سب نیوز
حماس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ایک بیان میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ ہماری مسلح مزاحمت تب تک نہیں رک سکتی جب تک ہمارے تمام قومی حقوق کی مکمل بحالی نہ ہو، جن میں سب سے اہم ایک آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔
حماس کا یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان غیر براہ راست مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، جس میں غزہ جنگ میں 60 دن کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت ہو رہی تھی۔ تاہم، ان مذاکرات میں کوئی بھی پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی اور بات چیت ناکام ہوگئی۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح جدوجہد فلسطین کی آزادی تک جاری رہے گی اور فلسطینی عوام اپنے حقوق کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی بات چیت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعائشہ ثنا کی گمشدگی، حقیقت سامنے آگئی پاکستان کے بعد کمبوڈیا نے بھی ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی بچوں کو سر اور سینے میں گولیاں مار کر قتل کرنے کا انکشاف غزہ: بھوک نے مزید 12 افراد کی جان لے لی، اسرائیلی حملوں میں 100سے زائد فلسطینی شہید حماس نے ہتھیار ڈالنے کو فلسطین کی آزادی سے مشروط کردیا یوکرین امن مذاکرات پر ٹرمپ ضرورت سے زیادہ توقعات کے باعث مایوسی کے شکار ہیں؛ پوٹن غزہ کی پٹی میں انسانی بحران بہت گہرا ہو چکا ہے،اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے ہتھیار فلسطین کی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔