پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو عہدہ چھوڑنے سے متعلق بیان پر وزیراعلیٰ کے پی ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا فراز مغل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کے وژن کی نمائندہ ہے، بانی پی ٹی آئی جب چاہیں گے وزیراعلیٰ منصب چھوڑ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور حکومت سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے پیغام کی کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی، علی امین گنڈاپور متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ کےپی حکومت بانی پی ٹی آئی کی امانت ہے۔

بنوں بورڈ کے میٹرک کے نتائج کا اعلان، جیل قیدی نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی

ان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود اڈیالہ جیل میں اپنے لیڈر سے نہیں مل سکتے، عدالتوں کی جانب سے احکامات بھی موجود ہیں، لیکن آئین اور قانون کی پاسداری نہیں کی جاتی۔

ترجمان وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے علاقائی سطح پر قبائلی جرگوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

فراز مغل نے کہا کہ گزشتہ روز بھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں قبائلی عمائدین کا جرگہ منعقد کیا گیا، جرگوں کے بعد ایک گرینڈ قبائلی مشاورتی جرگہ تشکیل دیا جائےگا۔

پاکستان کیخلاف دوسرے ٹی 20 میں جیسن ہولڈر نے اہم ریکارڈ اپنے نام کرلیا

خیال رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا علی امین گنڈا پور اگر خیبر پختونخوا میں امن قائم نہیں کر سکتے تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا علی امین گنڈا پور اگر صوبے میں گورننس کے مسائل حل نہیں کرسکتا تو کسی اور کو موقع دینا چاہیے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن