اوٹاوا(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 جولائی ۔2025 )کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا ستمبر میں فلسطین کو بطور تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کینیڈا جی سیون (G7)گروپ میں شامل تیسرا ملک ہے جس نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے.

(جاری ہے)

وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا انحصار جمہوری اصلاحات پر ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی کے آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں حماس کو حصہ لینے کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہے خیال رہے کہ دوروز قبل برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پر عمل نہ کیا تو برطانیہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لے گا.

یار رہے کہ گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کینیڈا کے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان مسترد کرتے ہوئے اسے حماس کے لیے انعام قرار دیا ہے. اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں مارک کارنی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تسلیم کیا جائے گا.

انہوں نے مقبوضہ غربِ اردن میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کو کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کی وجوہات قرار دیا وزیراعظم کارنی نے کہاکہ غزہ میں انسانی مصائب کی سطح ناقابل برداشت ہے اور یہ تیزی سے بدتر ہوتی جا رہی ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فلسطینی ریاست کو ریاست کو تسلیم مارک کارنی میں فلسطین تسلیم کرنے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ