زائد سامان پر زائد کرایہ کیوں؟ فوجی افسر کا فضائی کمپنی کے عملہ پر ’قاتلانہ حملہ‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
سری نگر ایئرپورٹ پر اسپائس جیٹ( ایک نجی فضائی کمپنی) کے عملے پر ایک آرمی افسر کی مبینہ ’قاتلانہ حملے‘ کی خبر سامنے آئی ہے، جو مبینہ طور پر کیبن میں اضافی سامان لے جانے پر اضافی چارجز لینے پر مشتعل ہو گیا۔
اس واقعے میں 4 ایئرلائن ملازمین کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں ایک کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر اور ایک کی جبڑے کی ہڈی ٹوٹنے کی اطلاع ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی ایئر لائن میں تھپڑ کھانے والا مسافر لاپتا ہونے کے بعد کہاں سے بازیاب ہوا؟
اسپائس جیٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے:
’ایک مسافر نے 26 جولائی 2025 کو سری نگر سے دہلی جانے والی پرواز SG-386 کے بورڈنگ گیٹ پر اسپائس جیٹ کے 4 ملازمین پر شدید حملہ کیا۔ یہ حملہ مکے، لاتیں اور قطار لگانے کے اسٹینڈ سے کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کو ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر اور جبڑے کی ہڈیوں میں سنگین چوٹیں آئیں۔‘
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسپائس جیٹ کے عملے نے مسافر کو کیبن میں اضافی سامان لے جانے پر اضافی فیس ادا کرنے کا کہا۔ اس پر مسافر، جو مبینہ طور پر ایک فوجی افسر تھا، مشتعل ہو گیا اور اس نے عملے پر جسمانی حملہ کر دیا۔
Spicejet says the man in orange (an Army officer) has been booked for this “murderous assault” on its staff at Srinagar airport over payment for excess cabin baggage.
— Shiv Aroor (@ShivAroor) August 3, 2025
قانونی کارروائیاس واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر موجود سیکیورٹی عملے نے فوری مداخلت کی۔ اسپائس جیٹ نے مقامی پولیس کے ہاں شکایت درج کرائی ہے، اور واقعے کو ’قاتلانہ حملہ‘ (مؤثر طور پر دفعہ 307، تعزیراتِ ہند) کے تحت لیا جا رہا ہے۔
اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو مذکورہ افسر کو کئی سال کی قید اور فوجی ملازمت سے معطلی یا برخاستگی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: پوجا کرنے پر دلت نوجوان پر تشدد، مندر کی گھنٹی سے حملہ
ترجمان فوج کا مؤقففوج کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ملزم افسر فعال سروس میں ہے، تو انضباطی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر سخت ردِ عمل دیکھنے کو ملا۔ صارفین نے اسپائس جیٹ کے عملے سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ایوی ایشن یونینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوجی افسر سری نگر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوجی افسر اسپائس جیٹ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔