سری نگر ایئرپورٹ پر اسپائس جیٹ( ایک نجی فضائی کمپنی) کے عملے پر ایک آرمی افسر کی مبینہ ’قاتلانہ حملے‘ کی خبر سامنے آئی ہے، جو مبینہ طور پر کیبن میں اضافی سامان لے جانے پر اضافی چارجز لینے پر مشتعل ہو گیا۔

اس واقعے میں 4 ایئرلائن ملازمین کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں ایک کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر اور ایک کی جبڑے کی ہڈی ٹوٹنے کی اطلاع ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی ایئر لائن میں تھپڑ کھانے والا مسافر لاپتا ہونے کے بعد کہاں سے بازیاب ہوا؟

اسپائس جیٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے:

’ایک مسافر نے 26 جولائی 2025 کو سری نگر سے دہلی جانے والی پرواز SG-386 کے بورڈنگ گیٹ پر اسپائس جیٹ کے 4 ملازمین پر شدید حملہ کیا۔ یہ حملہ مکے، لاتیں اور قطار لگانے کے اسٹینڈ سے کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کو ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر اور جبڑے کی ہڈیوں میں سنگین چوٹیں آئیں۔‘

ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسپائس جیٹ کے عملے نے مسافر کو کیبن میں اضافی سامان لے جانے پر اضافی فیس ادا کرنے کا کہا۔ اس پر مسافر، جو مبینہ طور پر ایک فوجی افسر تھا، مشتعل ہو گیا اور اس نے عملے پر جسمانی حملہ کر دیا۔

Spicejet says the man in orange (an Army officer) has been booked for this “murderous assault” on its staff at Srinagar airport over payment for excess cabin baggage.

Airline says spinal fracture and broken jaw among the injuries. Probe underway. pic.twitter.com/g2QmIPU7eJ

— Shiv Aroor (@ShivAroor) August 3, 2025

قانونی کارروائی

اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر موجود سیکیورٹی عملے نے فوری مداخلت کی۔ اسپائس جیٹ نے مقامی پولیس کے ہاں شکایت درج کرائی ہے، اور واقعے کو ’قاتلانہ حملہ‘ (مؤثر طور پر دفعہ 307، تعزیراتِ ہند) کے تحت لیا جا رہا ہے۔

اگر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو مذکورہ افسر کو کئی سال کی قید اور فوجی ملازمت سے معطلی یا برخاستگی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: پوجا کرنے پر دلت نوجوان پر تشدد، مندر کی گھنٹی سے حملہ

ترجمان فوج کا مؤقف

فوج کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ملزم افسر فعال سروس میں ہے، تو انضباطی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر سخت ردِ عمل دیکھنے کو ملا۔ صارفین نے اسپائس جیٹ کے عملے سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایوی ایشن یونینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی فوجی افسر سری نگر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی فوجی افسر اسپائس جیٹ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان