فیسکو کی جانب سے بجلی صارفین کے لیے بڑی سہولت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
اویس علی: فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے بجلی کے نادہندہ صارفین کو کنکشن بحالی کی غیر معمولی سہولت دے دی ہے۔ اب وہ صارفین جن کے کنکشن بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث منقطع ہو چکے ہیں وہ صرف 50 فیصد رقم ادا کرکے اپنا کنکشن دوبارہ بحال کروا سکتے ہیں۔
فیسکو نے سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تمام سرکل دفاتر کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ جن صارفین کے بجلی کنکشن بل کی عدم ادائیگی پر منقطع کیے گئے ہیں، اُن کے کنکشن 50 فیصد ادائیگی پر بحال کیے جائیں۔
فیسکو حکام کے مطابق یہ سہولت صرف وہ صارفین حاصل کر سکتے ہیں جو اپنے ذمے واجب الادا بل کی نصف رقم فوری طور پر جمع کروا دیں۔صارفین متعلقہ سرکل دفاتر سے اقساط کی سہولت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔بقیہ ادائیگی طے شدہ اقساط میں مکمل کی جا سکتی ہے۔
محدود مدت تک عجائب گھروں میں داخلہ مفت؛ حکومت نے بڑا اعلان کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔