وزیراعلیٰ سندھ کا صدرآصف علی زرداری کی سالگرہ پر مبارکباد کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو سالگرہ کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔وزیراعلیٰ ہائوس سے جاری پیغام میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری تدبر، حوصلے اور مفاہمت کی علامت ہیں، جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں صبر و دانش کا مظاہرہ کیا اور قوم کی باوقار قیادت کی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صدر زرداری نے آزمائشوں کے دور میں مفاہمت اور عقل مندی سے ملک کو آگے بڑھایا۔ ان کی قیادت میں نہ صرف جمہوریت کو استحکام ملا بلکہ آئینی بالادستی کو بھی نئی جہت ملی۔انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے ہمیشہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ "پاکستان کھپے" کا نعرہ ان کی سیاسی بصیرت اور عوام سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو امید، اتحاد اور صبر کا استعارہ بن چکا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست نے ملکی سیاست میں توازن پیدا کیا، اور تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت کو فروغ دیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی صدر آصف علی زرداری کو صحت، طویل عمر اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم آصف علی زرداری جیسے مدبر رہنما کی قیادت میں سندھ اور پاکستان ترقی، خوشحالی اور جمہوری استحکام کی راہ پر گامزن ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی زرداری نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔