خواتین کے باتھ روم میں ویڈیو بنانے والا پولیس ہیڈ کانسٹیبل گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال گجر خان کے خواتین باتھ روم میں خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے والے پنجاب پولیس کے حاضر سروس ہیڈ کانسٹیبل کو شہری کی بروقت کارروائی پر رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
انگریزی اخبار سے وابستہ رپورٹر صالح مغل نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرفتار ملزم عقیل عباس لاہور میں پولیس ٹریننگ ونگ سے وابستہ ہے اور وقوعہ کے وقت سول کپڑوں میں ملبوس تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق وہ اسپتال میں بھی خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہا تھا۔
شہری کی ہوشیاری سے گرفتاریشہری بلال حسین نے اسپتال میں طبی معائنے کے دوران مشتبہ حرکات دیکھ کر ملزم کو روکا، اس کا موبائل فون چیک کیا جس میں خواتین کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔ بلال نے ملزم کو فوراً قابو میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
درج مقدمہ اور دفعاتپولیس نے ملزم کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں دفعہ 354 (عصمت دری کی کوشش)، دفعہ 292 (فحش مواد)، اور دفعہ 509 (خواتین کی توہین و ہراسانی) شامل کی گئی ہیں۔
سابقہ ریکارڈ بھی سامنے آ گیاایس پی صدر نبیل کھوکھر اور اے ایس پی سید دانیال کے مطابق ملزم ماضی میں ایک بیوہ خاتون کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں بھی ملوث رہ چکا ہے، تاہم متاثرہ خاتون سے راضی نامہ کے بعد وہ کیس خارج کر دیا گیا تھا۔
پولیس کا موقفپولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اور تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس اہلکار خواتین کی توہین و ہراسانی خواتین کے خلاف جرائم غیر اخلاقی تصاویر فحش مواد نازیبا ویڈیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار خواتین کے خلاف جرائم غیر اخلاقی تصاویر فحش مواد نازیبا ویڈیوز خواتین کی کے خلاف
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔