معروف بھارتی اداکار اور کامیڈین ہوٹل کے کمرے میں پُراسرار حالت میں مردہ پائے گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
بھارتی ملیالم فلم انڈسٹری کے معروف اداکار، کامیڈین کلابھاون نواس کیرالا کے ہوٹل میں مردہ پائے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نواس اپنی آنے والی نئی فلم "پرکَمبنم” کی شوٹنگ کے سلسلے میں کیرالا کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔
جس دن انھیں ہوٹل سے چیک آؤٹ کرنا تھا وہ کافی دیر تک کمرے سے باہر نہ آئے تو عملے نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔
ہوٹل کے کمرے میں اداکار بے ہوش پڑے تھے انھیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی موت تصدیق کردی گئی۔
مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کسی مشتبہ عنصر کے شواہد نہیں ملے۔ وہ ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تاہم حتمی طور پر کوئی بھی بات پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔
اسٹیج اداکار نواس نے 1995 میں فلم چیتنیام سے سنیما میں قدم رکھا، اور پھر میٹٹی پیٹی ماچان، جونیئر منڈریک، اما امّائی اما جیسی مشہور ملیالم فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ان کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ شوبز انڈسٹری کے بڑے ناموں اور مداحوں کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بہت سے فنکاروں نے انہیں "اسٹیج کا ہنستا مسکراتا چراغ” قرار دیا، جو اچانک بجھ گیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔