2025 عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس کا شنگھائی میں آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
بیجنگ :چین کے شہر شنگھائی میں “ذہین دور میں مل کر کام کرنا” کے تھیم پر مبنی 2025 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس کا آغاز ہوا ۔ اس کانفرنس میں پہلی بار “تعلیمی کامیابیوں، سافٹ اینڈ ہارڈ اسکلز کے امتزاج اور عالمی حکمرانی” کی تین بنیادی پہلووں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ 800 سے زائد کاروباری ادارے اس کانفرنس میں شریک ہیں اور 3ہزارسے زائد جدید مصنوعات اور “ورلڈ پریمیئر” اور “چینی پریمیئر ” کی 100 سے زائد نئی مصنوعات کی نمائش بھی کی جا رہی ہے، جو اب تک کا سب سے بڑا پیمانہ ہے۔ گزشتہ سال کی نمائش میں صرف 18 روبوٹ کمپنیوں نے حصہ لیا تھا لیکن اس سال 80 سے زائد ہیومن ائیڈ روبورٹ کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے 1200 سے زائد نمایاں شخصیات شرکت کر رہی ہیں، جن میں 12 ٹورنگ ایوارڈ اور نوبل انعام یافتہ افراد بھی شامل ہیں ، اس طرح اس کانفرنس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے تعلیمی بحث و مباحثے کو ایک نئی بلندی تک پہنچایا جا رہا ہے۔موجودہ کانفرنس کے دوران متعدد فورمز اور ایکسچینج میٹنگز بھی منعقد ہوں گی، اور 30 سے زائد ممالک اور خطوں کے 1200 سے زائد مہمانوں کی جانب سے تبادلہ خیال کر کے عالمی مصنوعی ذہانت کی ترقی کا خاکہ تیار کیا جائے گا۔
***
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔