نریندر مودی اور نرملا سیتارمن کے علاوہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان ایک مردہ معیشت ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے ہندوستان کی اقتصادی، دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے مرکزی لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے دور حکومت میں ہندوستان ایک "مردہ معیشت" بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے علاوہ ہر کوئی ملک کو درپیش معاشی بحران سے واقف ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے ہندوستان کی اقتصادی، دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ راہل گاندھی کا یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں ٹرمپ نے ہندوستان اور روس کو "مردہ معیشت" قرار دیتے ہوئے ہندوستانی درآمدات پر نئے محصولات کا اعلان کیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں، وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے علاوہ ہر کوئی یہ جانتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ ہندوستانی معیشت ایک مردہ معیشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک حقیقت بیان کی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی نے ارب پتی گوتم اڈانی کی مدد کے لئے ہندوستانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ تقریر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک باصلاحیت خارجہ پالیسی ہے، ایک طرف امریکہ آپ کو گالی دے رہا ہے اور دوسری طرف چین آپ کے پیچھے ہے اور تیسری بات جب آپ پوری دنیا میں وفود بھیجتے ہیں تو کوئی بھی ملک پاکستان کی مذمت نہیں کرتا، وہ ملک کو کیسے چلا رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ملک کو کیسے چلانا ہے۔
راہل گاندھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ آئندہ کسی بھی تجارتی معاہدے پر واشنگٹن حاوی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس معاہدے کی وضاحت کریں گے اور مودی صرف احکامات پر عمل کریں گے۔ وہیں منگل کو پارلیمنٹ میں مودی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ تو ٹرمپ کا نام لیا اور نہ ہی چین کا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پہلگام حملے کے ذمہ دار پاکستان کے فوجی سربراہ کے ساتھ لنچ کر رہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک بڑی کامیابی ہوئی ہے، یہ کیسی کامیابی ہے۔ دریں اثنا بی جے پی نے راہل گاندھی کے ان بیانات کو ملک کے لوگوں کی امنگوں، کامیابیوں اور فلاح و بہبود کی شرمناک توہین قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بی جے پی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز