توشہ خانہ ٹو کیس: علیمہ خان اور وکلا کو جیل میں داخلے کی اجازت نہ ملی، سماعت ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل اور ان کی بہن علیمہ خان کو اڈیالہ جیل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس سننے والے 2 ججز کے نام اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعیناتی کے لیے تجویز
اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں اسپیشل جج سینٹرل صبح ساڑھے دس بجے سماعت کے لیے موجود تھے اور وکلا کا انتظار کرتے رہے، مگر عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
جیل انتظامیہ نے وکیل قوسین مفتی کے ساتھ علیمہ خان اور دیگر وکلا کو اندر داخلے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث جج اور پراسیکیوشن ٹیم ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد واپس چلی گئی۔ اور عدالت نے کیس کی کارروائی کیے بغیر سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بڑا فیصلہ : اعلیٰ عہدیدار کسی بھی ملک سے تحائف نہیں لیں گے
اس موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب تک قوسین مفتی کے ساتھ عمران خان کے اہل خانہ، سلمان اکرم راجا اور علی ظفر کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی، وکیل بھی عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بانی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف توشہ خانہ ٹو کیس عمران خان وکلا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی پاکستان تحریک انصاف توشہ خانہ ٹو کیس وکلا وی نیوز توشہ خانہ علیمہ خان کی اجازت
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت