غزہ میں 17 سالہ اسپورٹس چیمپیئن بھوک سے شہید، وزن صرف 25 کلو رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
اسرائیلی محاصرے اور امدادی سامان کی شدید قلت کے باعث غزہ میں بھوک کا شکار ایک 17 سالہ فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
مقامی اسپتال اور اہلِ خانہ کے مطابق عاطف ابو خاطر نامی نوجوان کو شدید غذائی قلت کی حالت میں غزہ سٹی کے الشفاء اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز دم توڑ گیا۔
عاطف کے خاندان نے بتایا کہ اُس کا وزن 70 کلوگرام سے گھٹ کر صرف 25 کلوگرام رہ گیا تھا جو عام طور پر ایک 9 سالہ بچے کا وزن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ: اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 62 فلسطینی شہید، زیادہ تر امداد کے متلاشی تھے
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس کے اہل خانہ اور جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مقامی اسپورٹس چیمپیئن تھا مگر مسلسل بھوک اور غذائی قلت نے اُسے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا اور بالآخر اُس کی موت واقع ہوگئی۔ وہ غزہ میں غذائی قلت کے ہزاروں سنگین مریضوں میں سے ایک تھا۔
الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں عاطف کے اہل خانہ کو اُس سے آخری وداع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں اُس کی کمزور اور نحیف لاش ایک سفید کفن میں لپٹی ہوئی نظر آتی ہے اور ایک رشتہ دار کو اُس کے پسلیوں پر انگلی پھیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو واضح طور پر نمایاں تھیں۔
الشفاء اسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ بھر میں کم از کم 7 افراد بھوک اور غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں بھوک سے مزید 6 افراد شہید، متحدہ عرب امارات اور اردن نے امداد کی فضائی ترسیل شروع کردی
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 169 فلسطینی، جن میں 93 بچے شامل ہیں، بھوک اور غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب غزہ میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جہاں لاکھوں افراد روزانہ کی بنیادی خوراک سے بھی محروم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امداد بھوک خوراک غزہ فلسطین قحط.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بھوک خوراک فلسطین غذائی قلت کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔