سردار عبدالقیوم نیازی کو حراست میں لے لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
پولیس ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سمّنی سے بھمبر آ رہے تھے کہ انہیں راستے سے حراست میں لیا گیا، ان کے 9 مئی کے کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبد القیوم نیازی کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سردار قیوم نیازی آزاد کشمیر سمّنی سے بھمبر آ رہے تھے کہ انہیں راستے سے حراست میں لیا گیا، عبدالقیوم نیازی کے 9 مئی کے کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے 5 اگست کو دی گئی احتجاج کی کال کے باعث پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے بھی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی نے کارکنوں کو بھرپور احتجاج کرنے کی ہدایات دے رکھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیا گیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔