سیوریج نظام کی غفلت پر عدالت برہم، متاثرہ خاندان کو انصاف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
کراچی کی سٹی کورٹ میں سینیئر سول جج سینٹرل ظہیر حسین منگی نے شادمان نالے میں موٹر سائیکل گرنے سے خاتون اور 2 ماہ کے بچے کی ہلاکت پر متاثرہ شہری کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹی وسطی کو مجموعی طور پر 99 لاکھ روپے سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ریکارڈ سے واضح ہے کہ حادثہ فریقین کی غفلت کا نتیجہ تھا، کے ایم سی اور ڈی ایم سی وسطی اپنے عوامی فرائض کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام رہیں، اور انہوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں:لیاری میں عمارت گرنے کے بعد کیا میئر کراچی کیخلاف مقدمہ درج ہو سکے گا؟
درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 2022 کی مون سون بارشوں کے دوران پیش آیا، جب ایک موٹر سائیکل سوار خاندان شادمان نالے میں گر گیا۔ حادثے کے نتیجے میں مدعی کی اہلیہ اور دو ماہ کا بیٹا ازلان موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ تین ماہ کے ایک اور بیٹے کی لاش بھی تاحال نہیں مل سکی۔
عدالت نے واضح کیا کہ فریقین کی قانونی ذمہ داری تھی کہ وہ نالے اور سیوریج کے نظام کی مناسب دیکھ بھال کرتے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے۔ وکیل کے مطابق برساتی نالے کے اطراف کسی قسم کے حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے، جو کہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی: ٹریفک حادثے میں اسسٹنٹ پروفیسر کی موت کا مقدمہ درج
متاثرہ شہری نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جان لیوا حادثات ایکٹ سٹی کورٹ سول جج شادمان ظہیر حسین منگی کراچی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن موٹر سائیکل مون سون نالہ وکیل عثمان فاروق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سٹی کورٹ سول جج ظہیر حسین منگی کراچی کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن موٹر سائیکل نالہ وکیل عثمان فاروق
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ