وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
اسکرین گریب
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے جہاں پر گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے ان سے ملاقات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کو حالیہ بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال اور نقصانات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
ملاقات گورنر گلگت بلتستان نے وزیراعظم کو جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ ملاقات میں حالیہ بارشوں اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا بھی کی گئی۔
ضلع دیامر، گلگت اور غذر میں ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی و مالی نقصانات ہوئے جبکہ 21 جولائی کو بابوسر شاہراہ پر ریلہ کئی سیاحوں کو بہا لے گیا تھا اب تک 10 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔