ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج سے سات اگست تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جو کئی مقامات پر موسلادھار بارش کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ اس دوران اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جو مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق چھ اگست کو بلوچستان میں بھی تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو مقامی سطح پر صورتحال کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ ساتھ ہلکی بارش یا بوندا باندی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے موسم میں معمولی تبدیلی متوقع ہے گزشتہ رات اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا جبکہ کراچی میں بھی کہیں ہلکی بارش اور کہیں بوندا باندی دیکھی گئی جس سے شہریوں نے سکون کا سانس لیا اور گرمی کی شدت میں کمی واقع ہوئی ادھر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ بارشوں کے باعث پانی کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکے۔ کورنگ نالے میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے لیے مقامی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے دریائے سندھ میں کالا باغ، تونسہ، گڈو اور سکھر بیراج کے مقامات پر بدستور نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے جس کے باعث متعلقہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے محکمہ موسمیات اور ضلعی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد الرٹ رہیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور